فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 295 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 295

۲۹۵ خَلِقْتَ مُبَرامِن كُلِّ عَيْبِ كَانَكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ میں صرف اُسی شہادت پر اکتفا کرنا چاہتا ہوں جو یورپین فضلا نے طوعاً و کرہا اس بارے میں دی ہے۔گو بقول ہے۔آفتاب آمد دلیل آفتاب ہو وہ نبی مداحوں کی درح اور معرفوں کی تعریف سے مستغنی ہے۔مگر بقول الشَّتَاءِ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْأَعْدَاءُ - غیر قوم کی گواہی اور پھر نہ لوگوں کی اہل عالم کے طبائع کو مرغوب ہوتی ہے۔ڈاکٹریٹ صاحب لکھتے ہیں۔"محور عرب کے نہایت عمدہ خاندان اور معزز قوم میں سے تھے۔صورت میں تشکیل۔اور طور ہیں رسیلے۔اور بے تکلف تھے “ ترجمہ یا لوجی گاڈ فری ہینگس صفحہ ، دفعه ۱۰ مطبوعہ بریلی سے۔دل ” جان ڈیون پورٹ کا کھتا ہے۔نبی عرب - آپکی شکل شاہانہ تھی۔خد و خال با قاعده؟ اور دلپسند تھے۔آنکھیں سیاہ اور رسیلی تھیں۔بلینی ذرا اٹھی ہوئی۔دہن خوبصورت تھا۔دانت موتی کی طرح چپکتے تھے۔بخار سرخ تھے۔اور اُن کی تندرستی عریاں تھی۔آپ کا رای آویز تب تم عمدہ اور سینی آواز - موئید الاسلام ایڈورڈ گین صاحب بڑے مشہور مورخ لکھتے ہیں۔آنحضرت حسن ہیں شہرہ آفاق تھے۔اور یہ نعمت صرف انہیں لوگوں کو بُری معلوم ہوتی ہے۔جن کو اللہ تعالی کی طرف سے عطا نہیں ہوئی۔پیشتر اس کے کہ آپ کوئی بات فرما دیں۔آپ کسی خاص آدمی یا گروہ کو اپنی طرف متوجہ کر لیا کرتے تھے۔لوگ آنحضرت کی شاہانہ شکل۔اور رسیلی آنکھوں اور وضعد از تبسم اور بکھری ہوئی ڈاڑھی اور ایسا چہرہ جو دل کے ہر ایک جذبے کی تصویر کھینچ سے اور ایسی حرکت اعتما ہو زبان کا کام دے دیکھ کر تعریف کیا کرتے تھے۔موید الاسلام - صفحہ (۲) اے پہلوان، تو جاہ و بہلال سے اپنی تلوار حمائل کر کے ان پر لا نے تو ہر قسم کے جیب سے بری اور پاک پیدا کیا گیا۔گویا ایسا تو چاہتا تھا۔ویسا ہی پیدا کیا گیا۔