فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 294
۲۹۴ الهوين بشار تو بنی آدم میں سے از حد حسین ہے۔اسے پہلوان تو جاہ و جلال سے اپنی تلوار حمائل کر کے اپنی ران پر لٹکا۔امانت اور معلم اور عدالت پر اپنی بزرگواری اور اقبال مندی پر سوار ہو۔تیرا وہنا ہاتھ تجھے ہیبت ناک کام دکھائے گا۔۴۵ زبور - ۳ و ۴ - یہ بشارت صاف صاف نہی عرب کے حق میں ہے۔عیسائیوں نے بھی اس امر کو سلیم کر لیا ہو کہ انبیائے سابقہ میں سے تو کسی کے حق میں نہیں۔اب تصفیہ طلب بات صرف اسقدر ہو کہ عیسائی اس زبور کو مسیح کے حق میں کہتے ہیں۔اور ہم مسلمان کہتے ہیں کہ حصرت ذات پاک نبی عربی اسکی مصداق ہے۔اس با سچے فیصلے کیلئے امور ذیل قابل غور ہیں۔(1) دا) تو بنی آدم میں سے از محمد حسین و جمیل ہے۔سیرت و تواریخ کے جاننے والے اس بات سے ناراقت نہیں ہیں کہ آنحضرت " کے حسن و جمال کی تعریف سے تمام کتابیں بھری ہوئی ہیں۔آپ کے معاصرین عرب عرباتے جس قدر اس بارے میں حقیقت و معنی کی داد دی ہے۔دنیا میں اُس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔اور واقعی حقیقی بلا شائبہ مبالغہ آپ کا حلیہ مبارک قلم بند کیا ہے۔میں اس وقت بلاش بر خلاف اپنے دلی ارادے کے اپنے قلم کو اس بات سے روکتا ہوں۔کہ وہ سچا فوٹو کھینچنے والے اشعار آپ کے حسن و جمال کے وسعت کے تحریر کروں۔جو صحابہ نے کمال دیوار قلابی سے اُس ہارگئی حق کی نعت میں کہے ہیں۔کیونکہ وہ اس قدر دائر و سائرہ اور شائع ہیں کہ انکار کی گنجائش نہیں۔ہاں ایک شعر لکھے بغیر تو میں بھی ہرگز نہیں رہ سکتا۔جو ایک صحابی جلیل الشان کا کہا ہوا ہے۔اور کس دلی سچی ارادت سے کہا ہے۔