فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 271
۲۷۱ سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا۔اپنی حالت پر آویں۔کیونکہ موسی نے باپ دادوں سر کہا۔کہ خداوند جو تمہارا خدا ہے تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے ایک نبی میتے مانند اٹھائیگا۔جو کچھ وہ تمہیں کہے اُس کی سب ہو۔اور ایسا ہوگا۔کہ ہر نفس جو اس نبی کی نہ گئے۔وہ قوم سے نیست کیا جا ئیگا۔بلکہ سب نبیوں نے سموئیل سے لے کہ پچھلوں تک بتنوں نے کلام کیا اُن دنوں کی خبر دی ہے۔تم نبیوں کی اولاد اور اس عہد کے ہیں۔کہ خدا نے باپ دادوں سے باندھا ہے۔جب ابرہام سے کہا کہ تیری اولاد سے دنیا کے سارے گھرانے برکت پادینگے تمہارے خُدا نے اپنے بیٹے یسوع کو اٹھا کے پہلے بھیجا کہ تم میں سے ہر ایک کو اسکی بدیوں سے پھیر کے برکت دے اس سے کئی باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔اول مسیح کی آمد اول کے بعد اور آمدثانی سے پہلے اس پیشین گوئی کا پورا ہونا ضروری ہے۔دوم - مولی کے بعد یوشع اور اسکے بعد کے انبیاء اور سموئیل سے لیکر پھلوں تک کوئی بھی اس کا مصداق نہیں ہوا۔سوم حضرت ابراہیم کی دُعا کو سوائے ارسال ان انبیا کے جو بنی اسرائیل میں سے مرسل ہوئے۔کوئی خاص خصوصیت اُس نبی سے ہے۔چهارم مسیح اُس نبی سے پہلے آیا۔اب اُس دوسرے کی ضرورت ہوئی۔پنج - حواری کے قول سے صاف ظاہر ہے کہ اس بشارت کا مصداق نبی مسیح سے پہلے نہیں گذرا۔اور خود مسیح بھی نہیں۔اس لئے کہ اس نہی کے آنے تک ضرور ہے۔کہ آسمان مسیح کو لیتے رہے۔سوال اگر کوئی شخص کہے کہ بنی عیسو اور بنی قطورا کیوں اُسکے مصداق نہیں ہو سکتے۔جواب اقل اُن میں سے کسی نے اس پیشین گوئی کو اپنے حق میں ثابت نہیں کر دکھایا۔دوم - پولوس نامہ رومیاں 1 باب - درس ۱۳ میں فرماتا ہے۔خدا ونیز نے یعقوب سے