فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 270 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 270

۲۷۰ اس لڑائی میں قیدار کے اکثر سردار مارے گئے۔اور وہ کامیابی جوسچائی کا معیار ہوتی ہے ر ہوگی اور یہ بدر کی فتح اسلام کے من میں ایسی ہی اکسیر اعظم ہائی جیسی جنگ ملوین برج کی نشتیم دین عیسوی کے حق میں۔به تو میں امر کی نسبت قرآن فرماتا ہے۔و قذفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ وَ أَي المُؤْمِنِينَ فاعتبروا يا ولي الأبصار - سیپاره ۲۰ - سوره حشر - رکوع ۱ تورات میں بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ پیسے نبی سے ڈریں لیکن اُن لوگوں نے کفار مکہ کی طرح نبی برحق کی مخالفت کی وعید الہی سے نڈر ہو گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی نضیر ربنی اسرائیل) ویران اور تباہ ہو کر مدینے سے نکل گئے۔بعض عیسائی کہتے ہیں کہ یہ بشارت مسیح کے حق میں ہے۔پر یہ دھوئی اُن کا صحیح نہیں کیونکہ مسیح اور مکین کے حالات میں کسی قسم کی مالت جو پیشینگوئی میں مندرج ہو ہرگز نہیں پائی جاتی۔وجہ اول یہ ہو کہ مسیح صاحب شریعت نہ تھے بلکہ شریعت موسوی کے پیرو تھے۔چنانچہ اُن کے بیٹھا لینے۔ختنہ کرانے۔یورشلم میں آنے سے ظاہر ہے۔دوئم میں نے خود بھی تو دعوئی نہیں کیا۔کہ بشارت مثلیت میرے حق میں ہوا اور نہ اُنکے حواریوں نے اس بشارت کو انکی طرف منسوب کیا۔بلکہ اعمال باب ۳ - ۱۹ سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح اس کا مصداق نہیں" پس تو بہ کرو اور متوجہ ہو کہ تمہارے گناہ مٹائے جائیں تاکہ خداوندا کے حضور سے تازگی بخش ایام آویں اور یسوع مسیح کو پھر بھیجے جس کی منادی تم لوگوں کے درمیان آگے سے ہوئی۔ضرور ہو کہ آسمان اُسے لئیے رہے۔اُسوقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر اپنے ے پہاڑ ائی اردو میں قسطنطین عالم اور میگزیش قیصر میں ہوئی تھی در قیصرہ کو کو جو اس میں شکست ہوئی اسکو ایا عیسائی فتح مبین اپنے دین کی سمجھتے ہیں ۱۲ لے اور ڈالی کے دنوں میں ڈھاکہ اجاڑنے لگے اپنے گھراپنے ہاتھوں مسلمانوں کے ہاتھوں ہو سو پشت بانوانے آنکھ اور