فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 191 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 191

191 گھر والا منقول والا، یا مالک منزل جواب اور غربت معنی حمیت - ضد جاہلیت ہے۔دیکھو قرآن میں ایک جگہ اس کا استعمال ہوا ہے۔اخَذَتْهُ الْحَةُ بِالاتر نسبة جَگنو۔یعنی جب اُسے خدا سے ڈرنے کو کہا جاتا اُسے خدا سے ڈرنے ہے تو اسے عزت رصد و حمیت جاہلانہ گناہ پر آمادہ کرتی ہو۔پس ایسے کیلئے جہنم میں ہے۔اور عزیز کا لفظ جو اس سے مشتق ہوا ہو۔قرآن میں (سورہ دخان شر یہ جہنمی پر جب جہنم میں ڈالا جائیگا۔بول گیا ہو۔ذُقُ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيم چکھ کیونکہ تو بڑی حمیت والا اور بزرگ بنا بیٹھا تھا۔اور عزیز اور رب العزق کے معنی ایک ہی ہیں۔پس رب العزت اُس شخص سے مراد ہو جو دنیا میں متکبر اور جبار اور بڑا مندی کہلاتا ہے۔اسی حدیث کی بعض روایات میں آیا ہے۔حَتَّى يَضَعَ فِيهَا الْجَبَّارُ قَدَمَهُ بسیار اور رب العزت کے ایک ہی معنے ہیں۔یعنے متکبر سرکش حدود سے نکل جانیوالا پس گویا دونوں روایتیں علی اختلاف الفاظ معنی واحمد رکھتی ہیں۔اب حدیث کے معنی یہ ہوئے کہ دوزخ زیادہ طلبی کرتی رہیگی۔جب تک شریر متکبر اپنے تئیں عزیز جاننے والے اُس میں اپنا پاؤں رکھیں یعنے داخل ہوں۔یادر ہے کہ اہل اسلام کے اعتقاد میں دوزخ شریروں اور بد ذاتوں کی جگہ ہے۔جیسا حدیث ذیل میں مذکور ہے۔مشکوۃ صفحہ ۲۹۶ - ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ دوزخ میں ایک وادی ہو اُس کا نام ہب سب ہو۔اسکی تسکین کا باعث ہر ایک جبار ہو گا۔اسکے آخری جملے کے الفاظ یہ ہیں - يُسَكِنَهُ كُلِّ جَبَّارٍ - جواب بعض روایات میں اگر آیا ہر حَتى يَضَعَ اللهُ فِيهَا قدماء - اول تو یہ روایت حدیث کے اعلیٰ طبقے کی روایت نہیں کیونکہ اسمیں روایت بالمعنی کا احتمال ہے۔