فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 190 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 190

19- نخود اُنکے چالاک ہاتھوں کی کرتوت ہے۔بط اصل منشا آپکے اعتراض کا جملہ يَضَعَ فِي هَارَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَ ہے جس کا ترجمہ ہے۔رکھینگا اس میں عزت والا اپنا قدم۔اب ہم آپ کو ان الفاظ کا صحیح مطلب اور منشار بتاتے ہیں۔جن سے آپ کو بوجہ عدم فہم زبان غرب دھو کا ہو ا ہے۔گو الفاظ تو صاف تھے اور محاورہ عرب کی طرف ذرا سی سی رجوع کرنے سے بآسانی حل ہو سکتے تھے۔مگر چونکہ عادة نصاری کا خاصہ ہے کہ کسی کام کا اصلی مقصد عمدا یا جہا بدون توضیح و تفسیر نہیں سمجھتے یا سمجھ نہیں سکتے اور یہ عادت نسلاً بعد نسل حضرات حوار بین سے وراثت میں انہیں ملی ہو کہ وہ سادہ مزاج بھی حضرت مسیح کے کلام کو بدون تفسیر و مثل سمجھے نہیں سکتے تھے۔اسلئے ضرور ہوا کہ ہم پوری تفسیر ان الفاظ کی کر دیں۔سنو۔جواب۔پہلا لفظ جسپر پادری صاحب کو دھوکا ہوا ہے لفظ رب ہو سُننا چاہیئے کہ رب کا لفظ بڑے بڑے آدمیوں پر بولا گیا ہے۔جیسے یوسف علیہ السلام کا قول اس زندانی کو اذكر في عند ربك - سیپاره ۲ - سورہ یوسف می کوع ۵- کہ مجھے اپنے آقا کے روبرو یاد کرنا۔اور فرعون کہتا ہے۔انار تبكُمُ الأغلى سياره ٣٠- سورة النازعا - ركوع -- یکس تمہارا بڑا رب ہوں۔یہ لفظ عام بڑے بڑے رئیسوں اور امیروں پر بھی اطلاق ہوتا ہو اس لیے اس کی جمع ارباب سے امرا اور دنیا دار مراد لیے جاتے ہیں۔اور ٹھیک اسی طرح عبرانی زبان میں بھی جسے عربی کے ساتھ مشابہت تامہ ہے۔استعمال ہوا ہے۔چنانچہ رتی بڑے بڑے کا ہنوں اور عالموں پر بولا ہی جاتا ہے۔اور بعض جگہ جب کسی اسم کے ساتھ ترکیب میں مذکور ہوتا ہے۔جیسے مثلاً اسی جگہ رب العزة يا رب البيت يارب المنزل - اسوقت مرادوت لفظ صاحب کے ہوا کرتا ہے۔مثلاً ہم کر سکتے ہیں۔صاحب العزة - صاحب البيت السحب المنزل - عزت والا-