فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 167
142 قافیہ بندی کے لئے لیا ہے یا ویدانتیوں کی مت پر مخلوق کو خدا کہا ہے۔جواب پوری بحث اس آیت پر آریہ سماجوں کے جوابات میں دیکھنی چاہیئے۔یہاں مختصرا اتنا ہی لکھ دینا کافی ہوگا کہ اس آیت میں پہلا نام الاول ہوا اور دوسرا نام الآخر یہ دونوں نام یسعیاہ ۴۴ باب 4 میں موجود ہیں۔رب الافواج فرماتا ہے " یکی اول اور آخر ہوں اور میرے سوا کوئی خدا نہیں " تیسرا نام اس آیت میں الفظاہر اور چھ تھا الباطن ہے۔ظاہر کے معنی لغت عرب میں غالب اور بڑے زور والے کے ہیں۔اور ظاہر اونچے کو بھی کہتے ہیں اور باطن مخفی کو اب کیوں ٹھیک انہیں الفاظ کے مرادف معنی ایوب ، باب ، یہ وہ تو آسمان سا اونچا تو کیا کر سکتا ہے اور پاتال سے نیچے ہے تو کیا جان سکتا ہے؟ اور حدیث صحیح میں اس آیت کی تفسیر خود انصح العرب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مد رسول از نے فرمائی ہے۔هُوَ الأَول لَيْسَ قَبْلَهُ شَی و یعنی جب مخلوق میں سے کسی موجود چیز کو دیکھو تو مندائے تعالیٰ کی ذات بابرکات اُس موجود مخلوق سے پہلے موجود ہے مخلوقات سے کوئی ایسی چیز نہیں جو خدا سے پہلے ہو۔هُوَ الْأَخِرُ لَيْسَ بَعْدَهُ شَی۔یعنی ہر چیز کی فنا اور زوال کے بعد اُس کی ذات پاک موجود ہے۔هُوَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَهُ شَى۔یعنی ہر چیز سے او پر اور غالب رہی ہو اس سے اُوپر اور غالب کوئی شے نہیں۔هُوَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَه شَى - وہی پوشیدہ ہر سوا اس کے کوئی چیز نہیں ہے۔یہ تفسیر خوب واضح کرتی ہے کہ زبان عرب میں ان الفاظ کا مفہوم اور مراد یہ ہے۔اور وہی معتبر ہے۔