فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 161 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 161

141 اصلاح کے ہر قسم کے مطالب اشارات اعلیٰ درجہ کی پاکیزگی اور تہذیہ سے ادا کرے۔یہاں دانا سمجھ گئے ہونگے اور حق شناس تو سمجھتے ہی ہیں کہ گردن کش انسان توصیحت کو کرنا قرآن کریم کو منظور ہو اور کس جگہ کی طرف اشارہ اُسے مقصود ہے۔گر الہ اللہ کس خوبی اور لطافت سے اس مضمون کو نبھایا ہے۔یہی اس کتاب کریم کا اصلی اور سچا معجزہ ہے۔معترضو ا خواہ مخواہ کی طعنہ زنی کے عاشقو اترائ سے نیچے نگاہ کرتے جاؤ۔اور صلب کی طرف چلے جاؤ۔عین بین یعنی بیچوں بیچ میں تم کو وہ پنپ یا فوارہ نظر آوے گا۔جس میں سے وہ اچھلتا پانی نکلتا ہے۔جو انسان کی پیدائش کا منہ یا مبدا ہو۔خود کرو۔سوچو۔ایمان اور انصاف سے کام لو۔کیا مقصود تھا۔کیا مطلب تھا کس طرز پر ادا کیا۔اس سے بڑھ کر فصیح اور پاک کلام کوئی دنیا میں ہے۔علم ادب اور عربی سے آگاہی حاصل کرد - فصحائے عرب عضو تناسل کا نام حجب بتقاضائے وقت لازم ہو۔ایسی ہی پہنچ سے لیا کرتے ہیں۔چنانچہ انصح العرب را جرم ایک حدیث میں فرماتے ہیں۔من يضمن لي ما بين لحييهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ فَأُضِينَ لَهُ المَنة يَضْمِن یعنی جو شخص اپنی زبان اور شرمگاہ کو فواحش اور منکرات سے روکے میں اُسے جنت دلواؤنگا الْحَمْدُ لِلّهِ عَلى ذلِكَ اِن هُوَ ا لا ما الهمنِى بِهِ رَبّى - اعتراض - سوره صافات ۲ رکوع - گناہگار اور انکی جور واں اور جو کچھ وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں مع اُنکے دوزخ میں جائینگے۔سب پر روشن ہے بہت لوگ انبیاء و اولیاء کی پرستش کرتے ہیں اور عیسائی کیسے مسیح کی۔تو کیا یہ سب اور مسیح دوزخی ہیں۔الے ہو شخص مجھے ضمانت دے اس چیز کی جو اسکے دو جڑوں کے درمیان ہو یعنی زبان اور اس چیز کی جو اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے (یعنی عضو تناسل میں اُسکے واسطے جنت کا ضامن ہوتا ہوں ۱۳