فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 142 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 142

۱۴۲ دینے کو آتا تھا۔راستے میں اُسے دو عامری مل گئے۔یہ دونوں عامری اگر چہ اُس قوم کے تھے جنہوں نے غداری سے ستر آدمیوں کو مع اٹیمیں مارا تھا۔مگر یہ دو عامری بخلاف اپنی قوم کے رسول اللہ صلعم کے ہم عہد تھے اور عمرہ اس عہد سے ناواقف تھا۔عمرو نے موقعہ پاکر ان دونوں عامر یوں کو مار ڈالا جب رسول اللہ کو خبر ہوئی کہ عمرو بن امیہ نے اُن دو عامر یوں کو مار ڈالا ہے جو ہمارے ہم عہد تھے۔تو آپ نے تجویز کی۔ان دو مقتولوں کا خون بہا ر بدل قتل دیا جاوے۔حسب عہد نامہ مذکورہ سابق یہودیوں کو بھی اس خون بہا کے چندے میں شریک ہونا ضرور تھا۔آپ یہود کے پاس تشریف لے گئے۔دونوں مقتولین کے وارث بنو نضیر کے دوست تھے اور انہیں کہ یہ چندہ دیا جاتا تھا۔اسلئے آنحضرت کو بنو تفسیر کی شرکت کا اس چندے میں بڑا یقین تھا۔اور خیال کیا۔اول تو حسب معاہدہ یہود کو اس چندے میں شریک ہونا ضروری ہے۔دوم جن کو روپیہ دیا جاتا ہے وہ اُن کے دوست ہیں۔- جب آنحضرت صلعم یہودان بنو نضیر کے محلے میں تشریف لے گئے تو انہوں نے چندہ دینے سے انکار کیا۔اور اُسوقت ایک دلیر بہادر عمرو بن حجامش نام یہودی سے کہدیا کہ ایک بڑا بھاری پتھر کو ٹھے کی چھت پر سے آنحضرت صلعم پر لڑھکا دے اور انکا کام تمام کر سلام بن مشکم نے یہود کو بہت روکا اور منع کیا۔مگر وہ اس غدر سے باز نہ آئے۔آخر اس بچے حافظ حقیقی نے جن بلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ تَرَتِكَ فَانْ لَمْ تَفْعَلُ فَمَا بَلَغَتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کہا تھا خبر دے دی۔زرقانی نے لکھا ہے ایک یہودی عورت نے اپنے مسلمان بھائی کے ذریعے سے جناب کو یہود کی غداری کی اطلاع دیدی۔اسلئے یہودان بنو نضیر کا محاصرہ کیا گیا۔آخر چھ لے پہنچائے جو تجھ کو اترا تیرے رب سے اور اگریہ نہ کیا تو نے کچھ نہ پہنچایا اس کا پیغام اوراللہ تجھ کو بچائے گالوگوں سے ۱۲