فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 131
۱۳۱ ل الْمُؤْمِنُونَ وَزُلَى لُوا زِلْنَا لا شَدِيدًا - واذ يقول المُنافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللهُ وَ رَسُولُهُ الأغْرُورًا - سیپاره ۲۱ - سوره احزاب رکوع ۲ - اس لڑائی میں نوفل بن عبداللہ کفار کی طرف سے حملہ آور ہوا۔اور خندق میں گر کر مر گیا دشمنوں نے خوں بہا دیگر اس کی لاش لینی چاہیں۔مگر نبی اللہ نے مفت دیدی۔اس شدت کی حالت میں مختلف اقوام عرب اور نواحی مدینہ کے یہود کی حملہ آوری اور اسلام کی کمزوری کو منافق اور کمزور لوگ دیکھ کر میں نکلے۔اور کل تین سو آدمی آپکے پاس رہ گیا۔اس قبیل جمعیت میں خدائی لشکر اسلام کی امداد کو آیا۔ہوا کی تیزی اور مسردی۔نے دشمن کے ڈیرے خیمے اکھیڑ دشمن کو راتوں رات بھگا دیا۔اور کفی الله المؤْمِنِينَ الْقِتَالَ کی تصدیق ظاہر ہوئی۔اس لڑائی میں خطفان اور بنو قریکی اور بونیر اور این خیر کا سلوک برگ هرگز هرگز فراری کرنے کے قابل نہیں۔ان بدعہد۔عہ رکن قوموں کی لڑائی کی جڑ یہی واقعات ہیں۔اس لڑائی میں پانچ نمازیں ایک وقت میں پڑھی گئیں۔اور اس کی آیت کی جند بنا هنا نت مهزوم من الأحزاب اسی لڑائی میں تصدیق ہوئی۔سترہواں غزوہ بنو لحیان کی لڑائی۔یہ لڑائی خندق اور قریظہ کے بعد ہوئی۔غردت اس لڑائی کا باعث یہ تھا۔عقل اور قارہ عرب کے دو قبیلے تھے۔ان لوگوں کے سفیر جنگ اُحد کے بعد آنحضرت کے پاس آئے اور عرض کیا ہم لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔آپ چند آدمی دین کی سمجھ والے جو ہم کو دین کی تعلیم دیں ہمارے ساتھ روا نہ کیجئے۔پیغمبر خدا کی راستی پسند لے اور جب کہنے لگے منافق اور جن کے دلوں میں روگ ہے جو وعدہ دیا تھا۔ہم کواللہ نے اور اسکے رسول نے سب فریب تھا ۱۲