فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 118 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 118

HA أذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتِلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ بِالَّذِينَ أخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَن يَقُولُو ارتُنَ اللهُ سُور و حج پاره - رکوع کتے میں مسلمان دکھ دیتے جاتے کہ اسلام کو چھوڑ دیں۔اُنکے لئے حکم ہوا :- وقاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ - یعنی اسلئے لڑو کہ لوگ آزمائیشوں اور دین میں پھسلائے بجانے سے بچ جا دیں اور ظاہر باطن میں مسلمان ہو کر بسر کریں۔ایسا نہیں کہ ڈر کے مارے اندرستی سلمان اور باہر سے کافر۔اب ان تمام مقدمات کالازمی نتیجہ وہ دفاعی غر وات ہیں۔جو مظلوم مسلمانوں اور بانی اسلام کو قریش سے کرنے پڑے ہیں اسلئے مناسب معلوم ہوتا ہو کہ اول آیات قتال کو لکھدیا جاو ہے۔تاکہ ہر منصیف دوراندیش کو اس بات کے سوچنے کا موقع ملے کہ قرآن کریم نے قتال و جہاد کے کیا علی اور حدود بیان فرمائے ہیں۔اس امر کو خوب یاد رکھنا چاہیئے کہ جیسا محرکوں اور میدانہائے جنگ میں مبارزین کی تقویت اور ترغیب کیلئے دانشمند سے پیار ہر طرح کی تجاویز عمل میں لاتے ہیں۔مثلاً باجوں دل افزا تقریروں اور دیگر اسبا سے اُنکے حوصلوں کو بڑھاتے ہیں اور انکی ہمت کو اُبھارتے ہیں۔ویسا ہی موقع پڑنے پر اور مشکلات کے پیش آنے پر قرآن کریم بھی ایسی تدابیر کو کام میں لایا ہے۔اور ٹھیک اہل عرب کے دستور کے موافق جیسے وہ معر کہائے قتال میں رجز پڑھتے اور اُن ، زمیہ اشعار سے تیر تفنگ سے بڑھ کر کام نکالتے۔حکم ہوا ان کو جن سے لوگ لڑتے ہیں اسواسطے ہ ان پرظلم ہوا اور اورا کی دورکرنے پر قادر ہوہ جنون کال اُنکے گھروں سے اور کچھ دعوالے نہیں سوائے اسکے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے " کے اور لڑانیوالوں سے لڑو تاکہ دین سے پھلھن نہ رہے اور پورا دین ہو جاہ سے ظاہر و باطن میں سلمان رہو) اى حَتَّى لَا يُفْتَنَ مُؤْمِنَ عَنْ دِينِهِ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ - اى حَتَّى يَعْبُدُ اللهَ لا يَعْبُدُ مَعَهُ غَيْرَة - ابن هشام جلد اول صفحه ۱۷۴ -