فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 423
۲۳م حیوان سے سرزد ہوتے دیکھتے ہیں اپنی طرف نسبت کرتا ہے۔کہیں قرآن میں فرماتا ہے ہوابا د ولسان کو ہانک لاتی ہے۔کہیں فرماتا ہے ہم بادلوں کو ہانکتے ہیں۔ہم ہی گالیوں اور بھینسوں کے تھنوں میں دودھ بناتے ہیں ہم ہی اناج بوتے ہیں ہم ہی کھیت اگاتے ہیں اور تامل کے بعد یہ سب نسبتیں جو نا ہو ا متضاد الطرفین ہیں بالکل صحیح اور حقیقت بالکل صداقت ہیں۔پانچویں این بين ايد اور TOTO ول فِي أُمَيمٍ قَدْ خَلَتْ ! - من قبلور من الجن والان الله او مفسرین سیها ۲۳۰ سوره فصلت محکوم ۳ اس آیت کے اشکال کو خود قرآن نے مل کر دیا ہے اور منشینوں کے باعث تعین اور وجہ تقریر کو بتلا دیا ہے۔ومن يعي من ذكر الرحم لتبيض له شيطان فهو كه ترین سیپالا سوال زخرف کو ۲۴ اب ظاہر ہے کہ ذکر الہی کے چھوڑ دینے کے سب سے شیطان نے اُس پر تسلط پایا۔چھٹی ایت ولو شاء الله ما اشرکوا سیپاره ، سوره انعام - سرکوع ۱۳ - وَلَوْ شَاء رَبِّكَ مَا فَعَلُوهُ - سیپاره ۸ - سوره انعام - س کوع ۱۴ یہ حمد شرطیہ ملی ہے اور اس کا مطلب صاف ہے کہ اگرہم چاہتے تو ایسا کر سکتے لیکن با تعالی على العموم لوگوں کو ہدایت محض اور ضلالت محض پر محمول نہیں کیا۔اور ہ حکمت ایندی اس امر کی متقاضی ہو سکتی تھی یہی معنی اس آیت ک ہیں کہ اگر ہم چاہتے تو وہ شرک نہ کرتے یعنی من کو نہایت ے اور لگا دی ہم نے میں پر تعیناتی پھر انہوں نے بھلا دکھایا اُن کو جوائن کے آگے بعد ان کے پیچھے اور ٹھیک پڑی اُن پر قائل کر سب فرقوں میں جو ہو چکے ہیں ان سے آگے جنون کے اور آدمیوں کے کئے تھے ٹوٹے والے کا ے اور جو کوئی آنکھ چراہ سے رکھنی کی یاد سے ہم اس پر تعین کریں ایک شیطان پھروہ ہے اس کا ساتھی۔۱۳ ے اور اگر اللہ چاہتا تو شرک نہ کرتے۔اور اگر تیار چاہا تو یہ کام ترکرتے ۱۴