فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 36
۳۶ بنا سکتا۔حالانکہ اپنے اصول کے بیان میں آریہ نے اسے انو یم کہا جس کے معنی کیس كَ مِثْلِهِ شَيْ ء کے ہیں۔لطیفہ۔دیانند نے ستیار تھا اور یہ ھو جسکا میں لکھا ہو۔اگر کوئی سوال کرے۔پر میشر کے تو زبان نہیں۔قلم اور دوات اور ہاتھ نہیں رکھتا تھا۔اس نے دید کس طرح بنائی۔اور کیسے سنائی تو اس کا جواب یہ ہو کہ وہ قادر مطلق ہے۔اسکو اسباب کی ضرورت نہیں۔وہ سب کچھ بدون اسباب کے کر سکتا ہے۔ستیارتھ پرکاش صفر ۲۵۶ ۲۵۷ ۲۱۸۸۵ پر یہ جواب مادہ عالمہ میں بھول گیا۔آریہ یہ بھی کہتے ہیں فدات عالم سے پہلے کیا بیکار تھا۔اگر بیکار تھا۔تو معطل ہوا۔اگر یا کار تھا۔تو کیا کرتا تھا۔ہم کہتے ہیں وہ ہمیشہ سے خالق اور ہمیشہ سے متکلم ہے۔جیسے ہمیشہ سے ذرات عالم تمہارے نزدیک اسکے ماتحت رہے ویسے ہی ہمیشہ سے خالق بھی ہو۔پھر سوال کرتے ہیں۔اس نے کس زمانے میں ذرات عالم کو بنایا۔پھر ہم کہتے ہیں۔زمانہ بھی اسی کا بنایا ہوا ہے۔زمانہ کیا ہے فعل کی مقدار کا نام ہے۔باری تعالے کے فعل سے ایک مقدار پیدا ہوئی۔اُسی مقدار کا نام زمانہ ہے۔مدت کی بات ہے مجھپر ایک پنڈت کول نے یہ شخص کچھ زمانے تک مجھ سو نے تعصب رہا ہے) نہایت نا عاقبت اندیشی کے ساتھ آریہ سماج کی بد محبت کا خطرناک زہر اگلا میں تیقی حامی اُس کی تلافی کرے۔آمین۔نہ میری رضامندی سے بلکہ اپنی ہی رضا مندی سے کال کا نام کسی مقام کا مباحثہ دکھایا۔اس مباحثے میں ایک طرف آریہ ہیں۔اور دوسری طرف کوئی مسلمان مولوی۔آریہ نے سوال کیا ہے مولوی صاحب یا اگر آپ رُوح کا حدوث ثابت کر دیں تو ہم آریہ کا دعوی تناسخ خود بخود باطل ہو جاتا ہے۔مولوی صاحب ! فرمائیے۔اگر ارواح قدیم نہیں تو کب حادث ہوئے۔تجھے اس مباحثے کو دیکھ کر تجبآیا اور میرا تجب بیجانہ تھا۔مولوی نے اتنا کیوں نہ