فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 380 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 380

۳۸۰ کبھی بھی ادا کرنا گوارا نہیں کہ سکتا۔خصوصا ایک علیحدہ قومی نشان اور ایک بالکل الگ ہیئت میں الگ مذہبی سمت کی طرف متوجہ ہو کر۔اور با اینہمہ اپنی قوم میں بھی شامل رہے نا ممکن ہے۔اب غور فرمائیے آنحضرت کو اس خصوص میں کیا مشکلات پیش آئیں۔تاریخ اور قومی روایت متفقاً شہادت دیتی ہے کہ بیت اللہ زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام سے برا بہ ابا عن جد قوموں کا مرکزہ اور سہائے تعظیم چلا آیا ہے۔کفار مکہ کو بہت پرستی کے لباس میں تھے۔اس بیت ایل کو مقدس عبادت گاہ یقین کرتے۔جب آنحضرت نے دین حق کا وعظ مشروع فرمایا۔اور خدا کا کلام دن بدن پھیلنے لگا۔اور دشمنان دین مخالفت میں ہر طرح کے زور لگا کر تھک گئے۔آخر یہ حیلہ سوچا کہ نفاقا اسلام میں داخل ہو گئے اور اس طرح وہ لوگ سخت تازیتیں اور منفی دیر پا اب مسلمانوں کو پہچانے لگے بناؤ علئے ہذا بانی مذہب کو ضرور ہوا کہ اس معجون مرکب کے اجزا کی تحلیل کیلئے کوئی بھاری کیمیاوی تجویز نکالے۔آپ نے ابتداء سکتے میں بیت المقدس کی جانب نماز میں منہ پھیر - اس دربانی الہامی تدبیر سے قریش مکہ جو نہایت بت پرست تھے۔اور اہل کتاب اور انکے مذاہب کو بہت برا جانتے تھے مسلمانوں کی جماعت سے بالکل الگ ہو گئے۔اب کوئی منافق ظاہر طور پر بھی شامل ہونے کو گوارا نہ کرسکا۔اور خاص لگتے ہیں بجز خالص مخلص اصحاب اور یارانِ حبان نشار کے اور کوئی پیرو نہ بنا۔اس تدبیر سے ایک اعظیمہ فائدہ یہ ہوا کہ بانی کو اپنے مشن کی ترقی اور خالص پیرووں کا اندازہ معلوم ہو گیا۔اور آئیندہ کے واسطے معتمد وفاداروں اور غدار منافقوں میں امتیاز کلی ہوگیا۔پھر جب مدینے میں آپ تشریف لے گئے۔جہاں بکثرت یہود رہتے تھے۔اور جو اول اول با غراض مختلفہ آپ کی تشریف آوری سے خوش ہوئے۔اور آپکے تابعین ہیں خوب مل مل گئے۔پھر آخر اپنی اُمیدوں کے برخلاف دیکھ کر خفیہ خفیہ اضرار و افساد میں ریشہ دوانی کرنے لگے۔تب آنحضرت نے ربانی الہامی ہدایت سے جو ایسے تاریک شفقتوں