فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 379
اللهُم تَجْعَل قبرِى مِن بعد عيد اے اللہ میری تیر کو میسر بند عید نہ بنائی۔نخوب یاد ہے۔اور وہ بیجان و دل اپنے نبی کی اس دعا کے ظاہر نتیجے کی تصدیق کر رہے ہیں اور ہمیشہ اَشْهَدُ أَنتَ وَإِلَهَ إِلَّا اللَّه کے ساتھ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ پڑھ کر اللہ اور عہد میں امتیاز بین دکھلاتے ہیں۔بہت صاف امر ہے اور تقیقت شناس عقل کے نزدیک کچھ بھی محل اعتراض نہیں۔اُس ہادی کو جس نے تمام دنیا کی متداول عباد کے طریقوں سربین میں شرک اور مخلوق پرستی کے نجزه و اعظم شامل تھے۔اپنے طریق عبادت کو خالص کرنا منظور تھا۔اور ایک اضح وممتاز مسلک قائم کرنا ضرور اسلئے واجب ہوا کہ وہ اپنی امت کے رخ ظاہر کو بھی ایسی سمت کی طرف پھیرے۔جس میں قوائے روحانی کی تحریک اور اشتعال کی قدرت و مناسبت ہو۔ہر ایک سلمان کو یقین ہو کہ سکتے ہیں بیت اللہ کو تو حید کے ایک بڑے واعظ نے تعمیر کیا۔اور آخری زمانے میں ایسی کی اولاد میں سے ایک زبر دست کامل نبئی مکمل شریعت لیکر ظاہر ہوا جس نے اُس پہلی تلقین تعلیم کو پھر زندہ اور کام کیا۔پس نماز میں جب اُدھر رخ کرتے ہیں یہ تمام تصور آنکھوں میں پھر جاتے ہیں اور اس مصلح عالم کی تمام خدمات اور جانفشانیاں جو انی اعلائے کلمتہ اللہ میں دکھلائیں یاد آجاتی ہیں۔یادر ہے کہ نماز علاوہ اُن تمام خوبیوں کے جو اسپر مداومت کا لازمی نتیجہ ہیں بڑا بھاری قومی امتیاز اور نشان ہے۔روزہ حج زکوۃ وغیرہ میں ایک منافق مسلمانوں کو دھوکا دینے یا اُنکے رازوں پر مطلع ہونے کیلئے شامل ہو سکتا ہے۔اور اسکی قوم کو اسپر اطلاع بھی نہ ہو۔کیونکہ ان امور کی تیجا آوری میں اپنی قوم کے نزدیک وہ کسی بیماری - لزوم - فاقہ سفر و تفرج یا خیرات کا حیلہ تراش سکتا ہے۔اور مسلمان بھی اُسے بے تردد وفادار سلیمانی کہہ سکتے ہیں۔بشرطیکہ انہیں امور میں مسلمان ہونا محصور ہو۔مگر سخت مشکل اور پردہ برانداز امر نماز ہے۔جسے کوئی شخص بھی جو اپنے مذہب کا کچھ بھی پاس اور مصیبت دل میں رکھتا ہے