فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 374 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 374

و ل ما أوي إليكَ مِنَ الكتب و أقمِ الصَّلوةَ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَ، ولذكر الله اكبر و اللهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ : سیپاره ۲۱- سوره عنکبوت ربوع ده وَلِذِكُرُ اور ان آیات سے نماز کی علت خائی خوب ظاہر ہوتی ہو کہ نماز منکرات اور فواحش سے محفوظ رہنے کے لئے فرض کی گئی ہے۔اگر نماز کی اقامت اور مداومت سے نمازی کے اقوال افعال میں کچھ روحانی ترقی نہیں ہوئی۔تو شریعت اسلامی ایسی نماز کو ستخن درجات ہرگز نہیں ٹھہراتی۔اب مجاز و ظاہر کہاں رہا۔نبی عرب علیہ الصلوۃ کے لئے کچھ کم فخر کی بات نہیں۔اور اس کے خدا کی طرف سے ہونے کی قومی دلیل ہو کہ اُس نے خدا کی عبادت کو طبلوں مزاروں سارنگیوں اور پر بطوں سے پاک کر دیا۔اللہ کے ذکر کی مسجدوں کو رقص و سرود کی محفلیں نہیں بنایا۔اور یہانتک احتیاط کی کہ تصاویر اور مجسمہ بنانے کی او مسجدوں میں موسم بالشرک نقش و نگار کرنے کی قطعی ممانعت کردی کہ ایسا نہ ہو یہی مجاز رفته رفته مبدل حقیقت ہو کر اور یہی مجسمی معبودی تماثیل بینکر توحید کے پاک پیٹھے کو کندر کر ڈالیں۔جب ہم ایک خوش قطع گرجا میں عیسائی جھنڈ کو بزعم عبادت جمع ہوئے دیکھتے ہے قطع جائیں سجے سجائے بنے تھے۔نیٹو انیاں اور گوری گوری پور پانیاں قرینے سے کرسیوں پر ڈٹی ہوئیں اُس وقت ہمیں عیسائیوں کا یہ فقرہ کہ مسلمانوں میں صرف رسمی اور مجازی عبادت ہے " بڑا حیرت انگیز معلوم ہوتا ہے۔یقینا اہل اسلام کی غیور طبیعت نصاری کی اس حقیقت سے آشنا ہونے کی کبھی کوشش نہ کرے گی۔اس موقع پر طریق آذان پر بھی کچھ تھوڑا سا لکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ہر قوم نے پراگندہ افراد کو جمع کرنے یا منشائے عبادت کو حرکت دلانے کے لئے کوئی ے تو پڑھ جو اتری تیری طرف کتاب اور کھڑی رکھ نماز بیشک نماز روکتی ہے بیحیائی سے اور بری بات سے اور اللہ کی یاد ہے سب سے بڑی اور اللہ کو خبر ہے جو کرتے ہو۔! -