فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 373 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 373

۳۷۳ 10: مکان میں با وقار ہا تھ باندھ کر کھڑے ہونا۔اللہ اکبر سے افتتاح کرنا اور سورہ فاتحہ پایسی پر معنی دُعا کا پڑھنا۔اور پھر فرط انکسار سے اللہ اکبر کی عظمت کا تصور کر کے کیش مستقیم کو جھکا کر سبحان ربی العظیم پڑھنا۔اور پھر زمین پر نہ رکھکر بال گراگر سبحان ربی از ملے کہنا کیا یہ کم اثر کرنے والے اعمال ہیں۔کیا یہ فطرت انسانی کے موافق نہیں ہیں ؟ میں نہیں سمجھتا کہ ایک ایسے شخص کو جو عبادت حق کو کسی صورت میں کیوں نہ ہو۔انسان کی عبودیت کا لازمی فرض جانتا ہے۔اسلامی صورت نماز سے انکار ہو۔یہاں ایک اور لطیف بات سوچنے کے قابل ہے کہ اسلامی احکام دو قبر کے ہیں۔احکام اصلی اور تابع یا محافظ اصلی مقصود بالذات احکام اصلی ہوتے ہیں۔اور احکام محافظ صرف احکام اصلی کی بقا اور حفاظت کے لئے وضع ہوئے ہیں۔نماز کے سب ارکان ظاہری احکام محافظ ہیں۔اور اس امر کا ثبوت اُس وقت بخوبی ہوتا ہے جب یہ ارکان عذر کی حالت میں انسان کے وقے سے ساقط ہو جاتے ہیں۔مثلاً نماز میں بحالت مرض على اختلاف الاحوال قومه - قعدہ - جلسہ وغیرہ سب معاف ہو جاتے ہیں۔مگر وہ اصلی حکم اور حقیقی فرض جو مقصود بالذات ہے یعنی قلبی خشوع و خضوع۔جب تک قالب عنصری میں سانس کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے۔کبھی بھی انسان کے ذمے سے نہیں ملتی۔یہی اور صرف یہی نماز ہے۔جسے اسلام نے لائق اعتبار اور مستحق ثواب کہا ہے سنو۔الذكورتك في نَفْسِكَ تَضَر عاوَ خِيفَةً وَدُونَ المجهي مِنَ القوي بالعدد الْجَهْرِ بِالْغُدُةِ وَالأَصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، سیپاره ۹ - سوره اعراف - رکوع ۲۲ - لے اور یاد کرتارہ اپنے رب کو دل میں گڑ گڑانے اور ڈرنے اور پکارنے سے کم آواز بولنے میں صبح اور شام کے وقتوں اور مت رہ بے خبر ۱۲ -