فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 366 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 366

ہندوؤں کی قوم کی رسم نہیں تو اور کیا ہے۔سم (۱۵) اخبار باپ ۲۱- او گفتی باب ۶ - ۹ کی رسم ہندوؤں کے بھنڈر کا مقابلہ یا اقتباس نہیں تو اور کیا ہے۔(۱۶) ایوب اور داؤد کا راکھ میں بیٹھنا۔ایوب باب ۲-۸ ہندوؤں سناسیوں کی بھیجوت میں رہنے کی نظیر نہیں تو اور کیا ہے۔(1) جدیگوان نے ایک بکری کا بچہ اور سیر بھر آٹے کی فطیری روٹیاں طیار کیں۔گوشت کو نوکری میں رکھا۔اور شور یا ایک کٹورے میں ڈالا اور ایک دیوتا کے لئے بلوط کے درخت کے تلے لاکر گذرا نا۔تب اُس دیوتا نے کہا۔فطیری روٹیوں کو اس چٹان پر رکھدے اور انپر شور باڈال۔سوجد عون نے ایسا ہی کیا۔قاضیوں باب ۲- ۱۹۔اور دیوتا نے اپنے عصا کی نوک سے ہوا۔اور اُسے آگ کھا گئی۔پس ہندوؤں کی بلی کی رسم ہے۔نماز اس مضمون میں پانچ امروں پر بالاختصار نظر کرینگے (۱) حقیقت نماز (۲) باطن کو ظاہر سے تعلق ہے (۳) ارکان نماز (۴) فوائد ضبط اوقات (۵) سمت قبلے کے تعین کی وجہ۔دنیا کے مذاہب پر غور کرنے اور قریباً کل اقوام عالم کو ایک ہی بڑے مرکز اور مرجع کیطر بالا اشتراک رجوع ہو ہو دیکھنے اور قانون قدرت کے معجز بے نقص کتاب کے مطالعہ کرنے سے ) فطرت سلیم قوت ایمانی نور فراست کے اتفاق سے فورا شہادت دے اٹھتی ہے۔کہ ایک ہمارا خالق زمین و آسمان ہے جس کی قدرت کاملہ کل عالم پر محبط اور تمام اشیاء میں جاری ساری ہے۔فرض ایک ہمہ قدرت فوق الکل وجود کا خیال یا اعتقاد قریبا کل اقوام دنیا میں پایا جاتا ہے۔یہ فطرت کا اشتراک اور قوائے باطنیہ کی اضطراری توجہ ایک اعلیٰ ہستی کی جانب وجود باری کی عجیب دل نشین دلیل ہے۔اب عالم اسباب یا اسباب عالم پر جب انسان نظر کرتا ہے تو خوب سمجھتا ہے کہ عالم کون و فساد کے انقلابات میں وہ ہمیشہ مجبور ومعذور ہے