فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 285
۲۸۵ اور جب کوئی بڑی قدر کا شخص اور عظیم الشان ہوتا ہے۔تو اُس کے اسم کو بھی جمع بنا لیتے ہیں۔جیسا کہ خدا کا نام الوہ ہے۔اس کی جمع الوهیم بنائی ہے۔اور اسی طرح بعل 16 جو ایک بت کا نام تھا۔جس کو نہایت عظیم الشان سمجھتے تھے۔اس کی جمع بعلیم بنالی تھی۔اور یہی قاعدہ اسم اسورت کا لگایا گیا ہے۔جو دو کر بت کا نام ہے۔پس اسی طرح اس مقام پر بھی حضرت سلیمان نے بسبب ذی قدر اور عظیم الشان ہونے اپنے محبوب کے اُسکے نام کو بھی صیغہ جمع کی صورت میں بیان کیا ہے۔اور سچ ہے کہ محمد سے زیادہ کون شخص محمدیہ کہلانے کا مستحق ہو۔پس یہ ایسی بشار ہے، جس میں صاف صاف نام محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بتایا گیا ہے۔خطبات الاحمدیہ۔یا تجوس بشارت سب قوموں کو ہلا دونگا۔اور حد سب قوموں کا آدیگا، اور اُس گھر کو بزرگی سے بھر ونگا۔کہا خداوند خلائق نے کتاب بھی انہی۔باب ۱۱ - آیت ۷ - اس آیت میں لفظ حمدت جو آیا ہے۔اس سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہتے ہیں کہ ہر قسم کی پاک چیزوں کے لیے بولا جاتا ہے۔اسی مادے سے تحیر اور احمد اور حامد اور محمود ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نکلے ہیں۔اور اس بشارت میں لفظ حمدت کے کہنے سے صاف اشارہ ہے کہ جس شخص کے مبعوث ہونے کی اس میں بشارت ہے وہ شخص ایسا ہے کہ اُس کا نام حمد کے مادے سے مشتق ہے۔اور وہ کوئی نہیں سوائے محمد مصطفے احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے عیسائی مذہب کے پادری خیال کرتے ہیں کہ یہ بشارت حضرت جیسے کے مبعوث ہونے کی ہو۔مگر یہ خیال دو وجہ سے صحیح نہیں۔اول اسلیئے کہ حضرت مستی نے جسقدر بشارتیں عہد عتیق میں حضرت جیسے کی بیان کی ہیں۔اُن سب کو با تفصیل آپنے انجیل میں لکھا ہو۔کیونکہ وہ انجیل عبرانی زبان میں یہودیوں کی ہدایت کے لئے لکھی گئی تھی۔اور اسی سب سے تمام بشارتیں جو توریت و انجیل و زبور و صحف انبیا میں تھیں۔حضرت