فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 202
۲۰۲ تلك آيات الكتاب والذي أُنزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ الْحَقِّ بباره سوره رعد انا ايَاتُ وَالَّذِي تلال ايات الكتب وقران مبین - سیپاره ۱۳ - سوره حجر - رکوع ۱ - آیت وَوَجَدَكَ مالا میں کیا ہم نہیں کہ سکتے کہ امت مخاطب ہے اور ضال عاشق اور محب کو بھی کہتے ہیں۔دیکھو محاورہ قرآنی۔ވ الك إِن ضَلَالِكَ الْقَدِيمِ سیپاره ۱۳ سوره یوسف۔رکوع :: یہ بات یوسف کے بھائی یعقوب کو کہتے ہیں۔اور یہاں منال کے معنی گراہ کے ہرگز ہیں کیونکہ قرآن حمدصلی الہ علیہ اول سے مالات کی نفی بھی کرتا ہو وہاں فرماتا ہے۔ما عمل صَاحِبُكُم وَمَا غولی - سیپاره ۲۷ - سوره نجم - رکوع - ماغوی کے لفظ کے ساتھ ماضل کا خوب بیان ہو گیا۔فائدہ گناہوں کے وجود سے کبر اور عجب ریا اور جمعہ کا کیسا علاج ہوتا ہے۔اور گناہ کس طرح تو یہ اور تجز انگستار کا باعث ہوتا ہے۔یہ موقع اس امر کے بیان کا نہیں۔اعتراض إنا فتحنا لک فتحا مُّبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ اور وما تأخر - سیپاره ۲۲ - سوره فتحنا - رکوع - - اس آیت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی دلیری کی اور اپنے آپ کو باہم گنہگاری بے ڈر یقین کیا۔جواب حقیقی۔ایسے بشارات حسب کتب مقدسہ ضرور ہوا کرتے ہیں۔دیکھو تی۔پطرس نے جب کہا۔ہم نے تیرے لئے سب کچھ چھوڑ دیا۔تو مسیح نے فرمایا تم بادشاہت نے یہ آیتیں قرآن کی ہیں ار جواد تارا گیا ہے تیرے پاس خدا سے وہ سچ ہے ۱۲ لہ یہ آیتیں ہیں کتاب کی اور کھلے قرآن کی ۱۲ - سے ہر آئینہ تو اپنی پرانی غلطی میں ہے ۱۲ - ۵۲ نہیں بھٹ کا تمہارا رفیق اور نہ بہکا۔سے ہم نے فتح دی تجھ کو فتح ظاہر کرتا کہ بخشے اللہ تمہارے پچھلے اور پہلے گناہوں کو ۱۲۔