فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 199
199 (1) معترض عیسائی لوگو ! کوئی الہامی اور روح القدس کی لکھائی ہوئی تاریخ ایسی نہیں۔جس میں مریم کے خاندان کا مفصل حال مرقوم ہو۔اور ایسی بھی کوئی کتاب عیسائیوں کے گھر میں نہیں جس سے مریم کے بھائیوں اور ماں باپ وغیرہ رشتے داروں کے نام کا یقینی پتہ لگے۔پھر قرآن کے کلمہ اخت ہارون پر آپکا اعتراض کیا۔(۲) پادری لوگو ! تم نسب ناموں اور قصوں پر اعتراض نہ کیا کرو کیونکہ پولوس لمطاوس کے پہلے خط میں لکھتا ہو۔کہانیوں اور بے حد نسب ناموں پر لے ناموں پر لحاظ نہ کریں۔یہ سب تکرار کا باعث ہوتا ہو۔نہ تربیت الہی کا جو ایمان سے ہے۔۱۔طم طاؤس باب ۴۔(۳) سنو۔انجیل متی کی ابتدا میں مسیح کو ابن داود اور داؤد کو ابن ابراہیم لکھا ہو۔میتی باب ! حالانکہ مسیح اور داؤد کے درمیان اور داؤد و ابراہیم کے مابین پشتها پشت کا فرق ہے۔بلکہ بقول تمہارے مسیح ابن داؤد ہی نہیں۔(۲) سنو ! البیسبات کو ہارون کی بیٹی کہا گیا۔لوقا - باب ۵۔حالانکہ الیسات اور ذکریا کے زمانے سے جن کا ذکر لو قانے کیا ہے بہت ہی مدت پہلے ہارون کر چکے تھے۔اور ایسبات اور ہارون میں پیش ہا پشت کا فرق ہو ر ہنسی۔اجی حضرت یہ الیسبات انگلستان کی ملکہ نہیں ہے۔بلکہ اس سے بہت پہلے گزر چکی ہے) بات یہ ہے ناموں میں اشتراک بھی ہوتا ہے۔دیکھو یوسف اور یعقوب مسیح کے بھائی بھی ہیں اور ان سے سینکڑوں برس پہلے یوسف اور یعقوب اسحاق نبی کے پوتے اور بیٹے بھی گزرے ہیں کیا ممکن نہیں کہ ایک ہارون موسی کے بھائی ہوں اور دوسرے مریم کے۔(4) سنو ! عرب میں آج اور اخت کا لفظ وسیع معنوں میں مستعمل ہوتا ہو۔حقیقی بھائی اور ایک ہی پشت کے بھائی پر محدود نہیں۔دیکھو قرآن - إلى تَعُودَ أَخَاهُمُ صَالِحًا - سیپاره ۱۲ - سوره هود - رکوع ۶ - لے نمود کی طرف اپنے بھائی صالح ۱۲ -