فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 9 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 9

q۔نمونے کو دکھانے سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں جس کے باعث دوسرے کے قلب پر پورا اثر پی کے بانی اسلام کی اعلی صداقتوں میں قرآن اور آپکی پا تعلیم ہے۔اور اس صداقت کے لیئے پہلا مصداق ، اس عمارت کا پہلا پتھر آپکی گرامی ذات ہے۔اگر آپ جبلت میں اس کی تعلیم کے قابل نہ بنائے جاتے۔تو اسکی خوبی میں تامل ہوتا۔آپکی تعلیم کیسی پاک اور حکیمانہ ہو۔اوری میں یقین ہوا کہ تعلیم خدا کا قول ہو۔اسلئے کہ ہمارے فطری قومی اور تمام ملکی صفات ایک زبان ہو کر اسکی صداقت کے گواہ ہیں۔مجھے یہ مزہ نہیں بھول سکتا۔میں ایک فعہ قرآن پڑھ رہا تھا کیسی تذکرے میں بات پر بات چلی تمام بھلائیوں اور برائیوں پر جب ہمارے فطر می قوٹی گواہی دیتے ہیں۔تو انبیاء اور رسل کی ضرورت کیا تھی۔اُسوقت یہ آیت سامنے کھڑی پکار رہی تھی۔تم نہیں سمجھتے تمہارے نبی کے حق میں الہی کلام اور میرا متکلم کیا کہتا ہے۔فذَكِّرُ إِنَّمَا انْتَ مُذَكِّر - سوره غاشیه - سیپاره ۳ - رکوع ۱۳ - رسول خدا محمد رسول اللہ صلعم صرف مذکر ہیں۔اگر انکا اتباع کرو گے تمہارے بھولے بسرے اور کھوئے ہوئے متاع تم کو ملینگے۔اگر اس نبی کو علم الکتاب کا خطاب ملا ہے يد تو پھر جس کتاب کا معلم ہے وہ کتاب بھی ذکر ہی ہے۔دیکھو صنعت قرآن۔نا نحن لنا الذكر و إنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ، سُوره حجر سيارة - ركوع - براہموں کے سامنے اثبات نبوت کے واسطے یہ لطیف اشارہ ہے۔لم کایہ کا کچھ کم حجز ہو کہ آپکی تاریخ خصوصا اتمام رسالت کے حالات کمال بس تفصیل کیساتھ دنیا میں موجود ہیں۔اگر کوئی نیک نیتی سے چھان بین کرے۔اُس کے لئے اصلی واقعات پر پہنچ جانے کے لئے بہت سامان موجود ہیں۔قرآن اور قیمی روایات اور آپکے مساعی جمیلہ کی یاد گار اور آثار بھلا کسی نبی کو یہ بات نصیب ہے۔حضرت مسیح کی اے سو تو سمجھا تیرا کام یہی ہے سمجھاتا ہوں ہ ہم ہی نے اتارا قرآن کو اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں "