فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 138
۱۳۸ مرتکب ہوگا۔اور کوئی شخص کسی مجرم کی حمایت نہ کریگا۔گو وہ کیسا ہی عزیز و قریب ہوا ہے۔آئندہ جو تنازعات ان لوگوں میں ہونگے۔جو اس فرمان کو قبول کرینگے اُن کا فیصلہ خدا وند عالم کے حکم کے موافق رسول اللہ فرمائیں گے۔تھوڑے دنوں بعد یہود آن بنی نضیر اور بنی قریظہ اور بنی قینقاع اس معاہدے میں شامل ہو گئے۔اس فرمان سے وہ قبیح رسم دفع ہو گئی۔جو عرب میں رائج تھی کہ مظلوم ظالم سے انتقام لینے میں اپنی ذاتی قوی یا اپنے اعزہ کی طاقت پر بھروسا کرتا تھا۔اور رسی اور عدل گستری جنگ و جدل پر موقوف تھی۔ابن ہشام صفحه ۱۷۸ اولائف آف محمد صفحه ۷۲ - یہود بڑے قسی القلب تھے۔چونکہ وہ اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ بھی تھے اور عقیل بھی اور فرقہ منافقین سے اُنکو اتفاق تھا۔اور باہمی بھی یہود میں اتفاق تھاد بر خلاف عرب جن میں باہمی سخت نا اتفاقی تھی لہذا وہ نہایت خطرناک دشمن اس جمہوری سلطنت کے تھے۔جو شارع اسلام کے زیر حکومت قائم ہوئی تھی۔نا تربیت یافتہ قوموں میں شاعروں کا وہی مرتبہ ہوتا ہے اور شاعر و ہی اقتدار رکھتے ہیں جو اہل اخبار مہذب قوم میں۔شعرائے یہود چونکہ نہایت ذی علم اور ذی شعور تھے۔لہذا اہل پہنیں پر بڑے عادی تھے۔اس قوت کو انہوں نے اس میں صرف کیا کہ مسلمانوں میں نفاق ڈالنے لگے اور ان میں اور فریق مخالف میں بغض و عداوت کو ترقی دینے لگے۔بلکہ میں کہتا ہوں یا ہم اسلام میں اختلاف و عناد کا بیج بوتے تھے۔شاس بن قیس یہودی نے ایک بار دیکھا کہ انصار سلمان امدینے کے اصل باشند سے با ہم کمال محبت و اتفاق سے بیٹھے ہیں۔اور خیال کیا یہ وہی گروه اوس اور خروج کا ہے ہو ا ہمیشہ جنگ و جدل میں بسر کرتے تھے۔اب بالکل شیر وشکر ہیں۔اور اسلام کی پاکی تعلیم کی بدولت کمال اتحاد اور اخوت کے ساتھ ملے مجلے ہیں۔اس اتفاق کو دیکھے اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔اور ایک جو ان یہودی سے کہا۔تو ان میں بیٹھ جا۔