فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 127
۱۲۷ پس اُس روز سے لاشوں کی پامالی کرنے اور انکے مثل کرنے کی رسم قبیح جو اگلے زمانے کی سب قوموں میں جاری تھی مسلمانوں میں قطعا حرام ہو گئی ہے اور صرف اسلام ہی کو یہ فخر عطا ہوا۔لی اور یہ اس لڑائی میں گو بڑا صدمہ مسلمانوں کو پہنچا اور عبداللہ بن جبیر کی سپاہ کی خطا سے یہ بالا آئی۔مگر ایک فائدہ عظیم بھی حاصل ہوا کہ منافقوں کا نفاق اور یہودیوں کا بغض و عناد صاف صاف عیاں ہوگیا۔اور خالص مسلمان ممتاز ہو گئے۔وَالْحَمدُ لِلهِ عَلى ذالك اولا و اخراو ظَاهِرًا وَ بَاطِناً - غزوہ حمراء الاسماء مدینے سے آٹھ میل کے فاصلے پر ہے) آمد کے واقعے غزوہ پر مسلمانوں نے اہل مکہ کا تعاقب نہیں کیا۔مگر سب اہل مکہ قریب آٹھ دس میل کے چلے گئے۔تو پھر اُن کو یہ خیال آیا کہ جو ہو سو ہو آؤ ایک دفعہ مسلمانوں کا استیصال کر ڈالیں۔اس خبر پر آنحضرت مع ان احباب کے جو اُحد میں شریک ہوئے تھے۔مقابلے کو روانہ ہوئے۔مشرکین حمراء الاسد میں قریش کو کہہ رہے تھے۔محمد قتلتُم وَلا الكَوَاعِبَ ازْدَفْتُمْ بِئْسَ مَا صَنَعْتُمُ ارْجِعُوا۔آپ نے پیشتر دو جاسوسوں کو بھیجا مشرکین نے ان کوقتل کر ڈالا۔حمراء الاسد میں لڑائی نہ ہوئی۔کیونکہ قریش سیدھے لکھے کی طرف آئے۔پھر مدینے کو نہ لوٹے۔تنبیھا۔میں نے یہودیوں کے غزوات کو اہل عرب کے غزوات سے علیحدہ بیان کرنا تنبیه مناسب سمجھا ہے۔اسلئے عروہ بنی قینقاع۔بنی تغیر اور بنی قریظہ کو یہاں چھوڑ دیا آگے بیان ہوگا۔غزوۂ ذات الرقاع ریہ ایک جگہ کا نام ہے، زمین وہاں کی کچھ سفید کچھ سیاہ ہے۔عربوں اے یہود اپنے قیدیوں کو زندہ جلادیتے اور مقتولین کی لاشوں کو بڑی بے رحمی سے پامال کرتے۔رومیوں فارسیوں اور یونانیوں میں بھی یہ قبیح رسم جاری تھی دین کی نے بھی اس ہولناک رسم میں کوئی اصلاح نہ کی اور سولہویں صدی عیسوی تک زندہ آدمیوں کے اعضا کاٹ کاٹ اُن کو مار ڈالتے تھے ہلا تنقید الکلام سے نہ تم نے محمد کو مارا اور نہ مسلمانوں کی جوان عورتیں اپنے دیکھے پڑھا ئے اٹوٹ کر تم نے بڑا کی لوٹ جاتا