فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 122
۱۲۲ غزوہ وجوه جنگ کہا کہ یہ غزوہ پہلے ہوا ہے۔غزوه بکار اولی۔غزوہ عشیرہ کے دس روز بعد ہوا۔کورز بن جابر الفہری نے شخص مشرکین مکہ کے رؤسا میں سے تھا، مدینے پہنچکر مسلمانوں کے مویشی لوٹ لیئے یہ مخصوص نے اُس کا تعاقب سفوان تک جو بدر کے پاس ہو گیا۔مگر سلامت نکل گیا۔جنگ بدر۔یہ لڑائی بھی صرف قریش سے ہوئی۔اس لڑائی تک بھی مسلمان کمزور اور قلیل التعداد تھے۔چنانچہ اُن کے حالات قرآن یوں بیان فرماتا ہے۔ولقد نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدَرِ وَ انْتُمْ أَذِلَّه۔اور اللہ نے تم کو بدر میں نصرت دی اور تم قلیل التعداد تھے۔مسلمان کل تین سو اور قریش ہزار کے قریب تھے۔حاصل الامر اس لڑائی میں مسلمان فتحیاب ہوئے اور ستر کے قریب اسیران قرایش گرفتار ہوئے۔جن میں سے دو فقط مصلحتاً قتل کئے گئے اور باقی چھوڑ دیئے گئے۔ان غزوات کے وجوہ و اسباب میں اسقدر کہتا دلیل قطعی کا پایہ رکھتا ہے کہ اس فساد کے بانی قریش ہیں۔وہی معاندین جنکے اوصاف و سلوک کا شمہ ہم ذکر کر آئے ہیں۔اسلئے ان دفاعی جنگوں کے لئے اور زیادہ معذرت گستری ضرور نہیں ہے۔ایک اور عجیب دلیل اس امر کے ثبوت میں کہ قریش سے یہ جنگ دفاعی تھی ہم نقل کرتے ہیں۔اور یقیناً ایسے دلائل فطرت انسانی کے نیچے صحیح فلسفے کا نتیجہ ہوتے ہیں نہ فضول اختراعی منطق کی بے معنی بک بک جھک جھنگ اور وہ دلیل یہ ہو کہ جب بدر میں کفار کی لاشیں ایک کنوئیں میں دفن کی گئیں اُسوقت آنحضرت نے عبرت انگیز الفاظ میں اُن مقتول کفار کی حیات حال سے خطاب کر کے فرمایا۔مس عشيرة النبي كُنتُمْ لِنُبِيكُمْ كُنَّابُهُ وَنِي وَصَدَّ قَنِيَ النَّاسُ وَ بلس أَخْرَجْتُمُونِي وَأَوَانِي النَّاسُ وَقَاتَلْتُمُونِي وَنَصَرَ فِي النَّاسُ ( ابن شام جلد ۲ صفحه ۲۲) اے نبی کے تم بڑے رشتے دار تھے۔تم نے میری تکذیب کی۔اور لوگوں نے میری تصدیق کی۔تم نے مجھے وطن سے نکالا۔لوگوں نے مجھے جگہ دی۔تم نے مجھ سے لڑائی کی۔اور لوگوں نے مردد می ۱۲