فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 115
۱۱۵ حالت ضرور مضطرب ہوتی تھی۔آپ ایک دفعہ نماز پڑھ رہے تھے۔جب سجدے میں گئے۔ایک ریمیں بد کردار کے اشارے سے آپکے دوش مبارک پر خون اور گوبر کا لتھڑا ہوا اونٹنی کا بچہ دان ڈالا گیا۔قریش کے اس بے رحم مقابلے نے آخر آپکو طائف کی طرف متوجہ کیا کہ شاید وہیں کوئی منفس راہ حق کی طرف آجاؤ سے آخر وہاں تشریف لے گئے۔صرف زبیدہ آپکا خادم ساتھ تھا عبد یا میل اور دیگر رؤسائے طائف کو دعوت حق کی۔اُن لوگوں نے اُس شفقت کا یہ عرض کیا کہ غلاموں اور قلاشوں اور لڑکوں کو آپکے عقب میں لگا دیا۔اور وہ تین کوس تک آپ کو پتھر مارتے ٹھٹھا کرتے اور گالی گلوج دیتے چلے گئے۔اس معرکے میں زید آپکا خادمہ سخت زخمی ہوا۔اور خود ذات مبارک بھی لہو لہان کہنے کو واپس تشریف لائے۔اثنائے راہ میں ایک فرشتے نے طائف والوں پر بد دعا کیلئے کہا۔مگر رحیم رسول نے جواب میں فرمایا کہ گو اہل طائف نے مجھے اچھا سلوک نہیں کیا۔الائیں امید کرتا ہوں کہ انہیں لوگوں سے خدا ایسی اولاد پیدا کریگا۔جو اسی واحد لا شریک لہ کی عبادت کرینگے۔پھر آپ نے مواسم حج میں یعنے جب اطراف کے لوگ حسب قاعدہ قدیم بیت الہ کی زیارت کو آتے۔وعظ کہنا شروع کیا۔اور مٹی میں جب لوگ جمع ہوتے وہیں انکو اسلام کی طرف بلاتے۔اس سے اکثر اہل مدینہ زائران بیت اللہ مسلمان ہو گئے کیونکہ دینے کے اہل کتاب سے جو حسب وعدہ کتب الہا میں ایک نبی کے منتظر تھے۔بشارات سُن سُن اُن کی قوت انفعالی جلد اثر قبول کرنے کے قابل ہو چکی تھی۔بعضے مظلوم مسلمانوں کو ایک نئی جائے پناہ سوجھی جسے اُنکے نئے ایمانی بھائیوں نے بخوشی خاطر بہم پہنچانے کا وعدہ کیا۔کتے میں جو جو مصائب اُن لوگوں پر گذر سے انہیں پڑھکر جگر شق ہوا جاتا ہے۔ابو جہل سفاک نے عمار کی ماں سمیہ کو ایسا ستایا کہ اس بیچاری کے اندام نہانی میں بہ چھے مارے۔اُس نے اُس تازہ فضل کے شکریے میں ہیبتناک