فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 116
114 قتل کو گوارا کر لیا - کامل ابن اثیر جلد ۲ صفحه ۲۶ - اور سکینمسلمانوں پہیہ گذرتی کہ سنگدل قریش پتھروں کو دھوپ میں گریہ کرتے اور وہ صحابہ کے سینوں پر رکھتے۔اور جب دھوپ سے پتھر گرم ہوتے۔تو اون پر -1۔4۔لٹاتے۔ابن ہشام - صفحہ ۱۰۹ پس اسکے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا تھا کہ مسلمان اس مبارک بستی (مدینہ کو اپنے نئے خیر خواہوں کے یہاں چلے جاویں۔ملک افریقہ میں پناہ لینے والوں کا حال سُن ہی چکے ہو اب ان عدی نے سیانے والوں کی سنیئے۔کہ دشمن وہاں تک بھر مار کرتے ہیں۔عیاش ابن ربیعہ مسلمان ہو کر مدینے چلے گئے۔ابو جہل اور حرث دونوں عجیب اؤں سے اُسکو مکے میں لائے۔کہ تیری ماں تیری جدائی میں سخت بدحال ہو اور اسنے قسم کھائی ہے کہ جب تک تجھے نہ دیکھے کنگھی نہ کریگی۔یہاں پہنچکر ا سے ایسی اذیتیں پہنچائیں کہ سُن کر رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ابن ہشام جلد ما صفحہ ۱۶۷۔صہیب نے چاہا کہ لگے سے چلا جاوے۔کفار نے اُس کا مال و اسباب کچھ بھی اُس کو ساتھ لے جانے نہ دیا۔کامل ابن اثیر جلد ۲ صفحہ ۲۷ - سبحان اللہ آپکے اتباع کا تو یہ عالم ہو رہا تھا۔اور ادھر اسپہ بھی ! اسلام گھرگھر پھیلا جاتا تھا۔اب اہل مکہ نے تمام اپنی تدابیر کو اسلام کی رو میں کمزور دیکھکر مایا کہ نبی عرب کو قتل ہی کر ڈالیں۔گر بعضی قومی اور رسمی بندشوں کی وجہ سے بنی مطالب سے ڈر گئے۔اسلئے دارالندوہ میں ایک انجمن منعقد کی۔وہاں یہ تجویز ٹھہری کہ مختلف قبیلوں کے چند نوجوان ہوشیار ملکہ ایک ہی دفعہ محمد رسول اللہ صلعمہ پر ٹوٹ پڑیں اور تلوار سے اُس کا کام تمام کر ڈالیں۔جو مطلب کس کس لط بنگر الہام الہی کے مخبر سے اطلاع پاکر منع ابوبکر صدیق اپنے خالص فیق کے مدینے کو چلے گئے۔اس کمیٹی کی مختلف راؤں اور سے یہ قریش کے پاریمنٹ کی جگہ تھی بھی قریش کے اور قوم کا آدمی پالس برس کی عمر کا اہل نہیں ہوتا تھا۔