فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 112
۱۱۲ سے کیا فائدہ۔اصلیت کہاں چھپی رہتی ہے۔گریبان میں منہ ڈالو۔ذری ہسٹری آف انڈیا ہی اُٹھا کر دیکھ لو۔کہا تک یہ امر یار صداقت کو پہنچا ہوا ہی مصلحت ملی مانع ہو کہ ہر ایک یں پہلو کو بالوضوح ہمہ ثابت کردیں۔بعض بلد باز کرسچن جھوٹ بول اُٹھیں گے کہ معاملات پولیٹیکل کو ان سحر کیا نسبت۔بیشک ہم بھی بڑے خوش ہونگے پس اسلامہ کے دفاع اور آیات جہاد یہ قرآنی کو پولیٹیکل مشکلات کا حل مانتے ہوئے اُنھیں کونسی بات مانع ہے۔صاحبوا یہ تعلیم سیجی اسوقت ہوئی۔یا یوں کہہ سکتے ہو کہ ایسے وقت کے لئے مناسب تھی جبکہ اُس تعلیم کا معلم ایسا کمزور تھا کہ اپنے شاگردوں تک تو اس کو اعتماد نہ تھا۔کوئی تیس روپے پر گرفتار کروانے کو موجود کوئی بزدلی سے اصلاً ہی انکار کو حاضر میلیون کہنے کو آمادہ۔اُدھر یہود کی وہ سرکشی وہ قساوت کہ ایسی خاکساری پر بھی بقول آپ کے جیتا نہ چھوڑا۔بھلا فرمائیے ڈرتے کیا نہ کرتے۔دوستو تعلیم کی خوابی تو یہ ہو کہ قوائے فطرت انسانی سے مناسب اور موزون کام لینے کو کہے غضب اور انتقام سے اپنے موقع پر۔رحم اور علم سے اپنی جگہ پر غرض جو جو افعال و خواص قوائے موجودہ میں ودیعت کیئے گئے ہیں وہی صادر ہوں۔یہی تعلیم قرآن و اسلام کی ہے۔اور اسی پر مصالح دنیوی و اخروی کے قیام کا مدار ہے۔اور جو قوم تہذیب و شائستگی کا میلان رکھتی ہے۔انھیں قوانین پر عملدرآمد کرنے کی سعی کرتی ہو۔ہمیں حیرت پر حیرت آتی ہو کہ اس روشنی کے زمانے میں ان پرانی لکیر کے فقیر با دریا کی آنکھ نہیں کھلتی۔وہی ابلہ فریب ڈھکوسلے ہانکے چلے جاتے ہیں۔دنیا دار ملکی آدمیوں کو جانے دور جو کہتے ہیں کہ اتوار کے روز انجیل کے موافق اگر دیل چلانا تار کا محکمہ ڈاک کا محکمہ اور بعضے اور کار زمانوں کو قطعاً بند کر دیا جائے۔تو ابھی مصالح دنیوی۔۔درہم برہم ہو جاتے ہیں گویا انجیل کی تعلیم کے نقص کے قائل ہیں اور ایک تھیوری