فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 84 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 84

۸۴ قال رَبِّ اجْعَل لى أية قال ايتك أن لا تكلم النَّاسَ سیپاره ۱۳ رکوع ۱۲ اور یہ ہان کا لفظ معجزات یا آیات کے معنے ہیں۔دیکھو قرآن میسی کے عصا اور ید بینا کو جو عیسائیوں اور یہودیوں میں مسلم معجزہ ہے بُرہان کہتا ہے۔قدانك برها تن من ربك - سياره ۲۰ - ركوع --- اور آنحضرت صلعم کی گرامی ذات کو بھی برہان ( معجزہ یا خرق عادت) فرمایا جہاں کہا۔کی کوبھی یا ياتها النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانَ مَنْ تكم و انر لنا اليكم نُوراً مبينا - اَيُّهَا رَّيّكُمْ وَاَنْزَ مُّبِينًا - یہود اور نصاری نے کہا۔ہم لوگ بھی بہشت میں جائینگے تو انکو قرآن کہتا ہے۔ن ها و برهانكم إن كُنتُمْ صَادِقِينَ - پاره - رکوع ۱۳ - معجزے کے معنی غیر کو عاجز کردینے والے کا محاورہ قرآن میں۔در وما انتم بمعجزين - پاره ، رکوع ۳ - وَمَاهُم بمعجزيین - سیپاره ۲۴ رکوع ۲ - مطلق عاجزہ کر دینا چونکہ نشان نبوت نہ تھا جیسے بارہا ذکر کیا۔رسالت آب کے اثبات نبوت میں قرآن نے یہ ناقص لفظ ترک کر کے آئیت اور آیات اور برہان کا لفظ استعمال فرمایا۔اور خرق عادت کا لفظ چونکہ بالکل غیر صحیح تھا اسلئے اُسے صاف ترک کر دیا۔انصاف سے دیکھو ایسے لفظوں سے بیچ رہنا ہی اعجاز ہے یا نہیں۔ان پڑھ وہ لفظ بولے جو شبہات سے پاک ہوں اور پڑھے ناقص لفظ سبحان اللہ عیسائی اور تمام تاریخی مذاہب پابند علی العموم مانتے ہیں کہ معجزات ہمیشہ ہوتے رہے۔بھلا جو چیز ہمیشہ ہوتی رہے وہ خرق عادت ہو سکتی ہے۔یا وہ تبدیل سنت اور تحویل عادۃ اللہ ہوگی۔لے اُس نے زکریا ، کہا میرے رب بنا میرے لئے نشانی کہا تیرے لئے نشانی ہو کہ توبات نہ کریگا لوگوں سے " ہے پس یہ دونوں (خصا اور ید بیضا) دو برہان ہیں تیرے ربت سے ۱۲ سے اسے لوگو بے ریب آئی تمہارے پاس برہان تمہارے رب سے اور اتارا تمہاری طرف نور ظاہر ا ہے کہ لاؤ دلیل اپنی اگر تم سچے ہو یوں ہے یعنی نہ تھم عاجزہ ہو اورنہ وہ عاجز ہیں ملا لاکہ