فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 78
LA دنیا کی ایسی حالت میں ایک بے سازو سامان ہے فوج و ملاک توحید کا واعظ کھڑا ہو گیا۔اور دعویٰ کیا کہ مجھے خدا نے بھیجا اور حکم دیا ہے۔قُم فَانْذِرُ وَرَبَّكَ فَكَبَرُ۔اُس نے تمام رسومات باطلہ پر ایک قلم خط نسخ کھینچنا چاہا۔تمام زمیں اور امیر غریب اور فقید اس واعظ کے جانی دشمن ہو گئے پیش جان اللہ کیسا مخالف اُٹھا۔اپنی قوم کو جاہ اور انکے زمانے کو جاہلیت کا زمانہ کہتا ہو۔قوم کا ایسا مخالف نہیں۔جیسے ایک شخص صلح قوم کہتا ہے۔یہی سمجھ میں نبیوں کی کتابیں منسوخ کرنے آیا۔اور ایک کہتا ہے وید ایسے ہیں کہ تمام علوم اور فنون کا مخزن ہیں۔پھر اپنی امیدیں خاک میں لے گیا۔تمام ملک اور تمام اہل شہر مارنے کے درپے ہیں اوریہ کہا جاتا ہے۔يُريدُونَ لِيُطْفِها نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللهُ مُتَمَّ نُورِهِ وَلَوْكَرَة الْكَافِرُونَ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِظْهِرَ : عَلَى الدِّينِ كُلِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ - سوره صف - سیپاره ۲۸ - رکوع ۹ - AKELL الجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ - سوره قمر - سیپاره ۲۷ - رکوع ۱۰ - اور پھر ایسا کامیاب ہوا۔ایسا کامیاب ہوا کہ اپنے سامنے اسکو یہ سورۃ پہنچ گئی۔إِذَا جَاءَ نَصُرُ اللهِ وَالْفَتح وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَزْوَاجًا - جس قوم میں اُٹھا اس قوم میں ایک بھی نہ رہا جو اسکے آخری ایام میں مخالف ہوتا۔اپنے ارا دوں میں پورا کامیاب ہوگیا۔اور کامیابی دیکھ اپنی ڈیوٹی کو پورا کر کے رفیق اعلی سے جاملا۔کو لے کھڑا ہو کر ڈریستا۔اور اپنے رب کی بڑائی کر ہوں ہے چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کی روشنی اپنے منہ سے اور اللہ کو پوری کرنی ہے اپنی روشنی اور پڑے برا مانیں منکر۔وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول راہ کی سوجھ لیکر اور سچا دین کہ اُس کو غالب کرے او پر تمام دینوں کے اور پڑے بُرا مانیں مشترک ۱۲ اب شکست کھا دے گا میں اور بھاگیں گے پیٹھ دے کر ۱۲ کن جب پہنچ چکی اللہ کی عمر اور فیصلہ اور تو نے دیکھے لوگ بیٹھتے اللہ کے دین میں فوج فوج ہوں