فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 1
بسم الله الرحمن الرحيمة الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذُ وَلَد وَلَمْ يَكُن لَه شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ دَلِي مِن اللَّهِ رَكَبَره تكبرَاهُ الصّلوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ الْمُخَاطَب بَيَا أَيُّهَا النَّ اِنَّا اَرْسَلْنَاكَ شَاهِدٌ أو مبشر رَاوَدَاعِيَا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وسمَ وسِرَاجًا منيراهُ اما بعد خاكسار الْعَارِدُ بِاللهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ كَاسْمِهِ أَبو مُسَامَةَ نُور الدين امین - معرض پرداز ہے۔فقیر تقریب رخصت جموں سے اپنے وطن بھیرہ ضلع شاہ پور میں پہنچا۔وطن میرے چند احباب نے کئی اعتراض ایک پادری صاحب کی طرف سے پیش کئے۔اور مجھ سے کہا۔ہم لوگ ان اعتراضات کو دیکھ کر حیران ہیں۔اور مضطرب و پریشان۔میں نے اُن سے کہا۔اگر پادری صاحب کہیں قریب ہیں تو زبانی مباحثے سے جلد تصفیہ ہوسکتا ہے۔مگر ان سب کا منشا یہی پایا کہ تحریر کا حجاب تحریر ہی چاہیئے۔مجھے جلد تر جموں دارالریاست یرمیں واپس آنا پڑا۔اور وہاں سے حسب الحکم پونچھ ریاست کو چلاگیا۔وقتا فوقتاً ے سراہئیے الہ کو جینے نہیں کبھی والا اور نہ کوئی اس کا سابھی سلطنت میں اور نہ کوئی اس کا مدگار ورکر کے وقت پر اور اسکی بڑائی کو یا جانکر اور رحمت کامل اور سلام نازل ہو ان رسول پر و خطاکئے گئے کہ اے میں ہم نے تھا بھیجا تا نیا اور خوشی بنانیوالا اور ڈرانے والی اور کیلا نیوالا الہ کی طرف اور اسکے حکم سے اور پرا رخ روشن ۱