فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 69 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 69

49 بھول گیا۔سچ ہے در ونگو را حافظہ نباشد - مرنے کے بعد بھی نا امید نہیں کیا۔دیکھو مقالات ابو الحسن الاشعری اور مستند احمد میں اسود این تشریح اور ابو ہریرہ کے احادیث جن میں برزخ اور میدان محشر میں شرعی احکام اور ان کی تکالیف کا حکم ہے۔اور دیکھو شرح منازل ابن قیم میں ہے۔وَمَن طَعَنَ فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ بِأَنَّ الْأَخِرَة دَارُ جَزَاء لَا دَارُ تكليف فهذه في الأحاديثُ مُخَالِفَة لِلْعَقْلِ فَهُرَجَاهِلَ فَإِنَّمَا التَّعلِيفُ أن ينقطع يد حول أي القرار الجنة والنار پھر الہی رحمت کی نسبت اسلام میں آیا۔كتب رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ وَرَحْمَتُ، سَبَقَتْ عَضَبَه - غرض اسلام نے تو عید - صبر اور شکر۔خوف اور باری تعالیٰ سے امید اور رضا اور زہد اور عبادت - تقومی۔قناعت سخاوت - احسان حسن ظن حسن خلق حسن معاشرت صدق - اخلاص - عفت - شجاعت علم وعمل اور تمام بھلائیوں کے کرنے کی تاکید فرمائی۔شرک اور غل اور کینہ اور حسد - تکبر حب الثنا- ریا - غضب - عداوت يغض طمع بخل فخر لا یعنی میں نوض - عیاشی اور شکستی بحرا مخوری- بیحیائی - قلت رحمت - مکر - دعا۔خیانت چغلی جہل جین اور ہر ایک برائی سے ممانعت کر دی۔طعن کیا گیا ہے مسلمانوں میں کسل اور مستی حرام خوری عیاشی فضول خرچی - فرود پر یہ صرف اسلام کی تعلیم کا نتیجہ ہے پر سنو۔یہ آیات کن لوگوں کی مقدس کتاب میں ہیں۔ے اور جس نے ان احادیث میں طعنہ کیا کہ آخرت دار جیہا ہے نہ دار تکلیف۔پس یہ احادیث عقل کے خلاف ہیں وہ جاہل ہے۔کیونکہ تکلیف جنت اور نارمیں پہنچنے پر موقوف ہوگی کیا ہے یعنی لازم کر لیا تمہارے پروردگار نے اپنی ذات پر رحمت کو اور رحمت اسکی خالی ہے اس کے غضب پر کیا