فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 68 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 68

ششم جمہوری سلطنت قائم کی رعایا کی آزادی کو دیکھو۔هم شُوا بَيْنَهُمْ سوره شوری سیپا الذينَ اسْتَجَابُو الرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَاَمْرُهُـ شاوِرُهُمْ في الأمر - سورة آل عمران - سیپاره ۴ - انمار ليكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ - سوره مائده - سیپاره -4- اتین اور بغاوت کی بیخ کنی کی۔۲ ا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالاثْمَ والْبَغْيَ سُوره اعراف - سیپاره تمام نیکیوں کا مدار قیامت پرایمان لانا تھا۔قیامت کو کیسے کیسے دلائل ہو ثابت کیا۔که عقل دنگ رہ جاتی ہے۔توریت میں قیامت کا صاف صاف تذکرہ بھی نہیں اسید اسکوی یہود کا ایک فرقہ بالکل منکر تھا۔مسیح کو بدقت ثابت کرنا پڑا۔الا قانون قدرت کے دلائل سے ثابت نہ کیا۔بخلاف قرآن کے کہ اُس نے قیامت کا مسئلہ مہر مہین کر دیا۔موت۔جو ایک ضروری اور ہر ایک فقیر و امیر کے لئے قدرتی اور لابدی ہے اسکے وقوع پر بائیں خیال کہ مردے کے اجزا ہوا میں نہ پھیلیں۔گہری زمین میں گاڑ نا تجویز کیا غسل دیا سادے ایک یا تین کپڑوں میں لپیٹ کر دفن کیا۔اور مردے کیلئے کھڑے ہو کر دعا مانگنے کا مدیا و دیبا پر کاش میں لکھا ہے گائے کا گوشت پکانے سے ہوا میں ردی اجزا پیدا ہو کر پھیلتے ہیں۔اور ایک پرچے میں لکھا ہے۔ہیضے والے کے کپڑے جلا نا بری بات ہو۔اس سے ہوا میں روی اجزا اپھیلتے ہیں۔پھر مردے کے جلانے کے فوائد حجب بیان کرنے لگا۔وہ پہلا مضمون 17 نے اور ایمان والے وہ جنہوںنے حکم مان اپنے رب کا۔اور درست رکھی نماز اور انکی حکومت ہر مشورے سے آپس میں یا ہے اور مشورہ کر لیا کر اُن سے حکم میں ملا سے تمہارا ولی اللہ اور اُس کا رسول ہے۔کہ بیشک عوام کیا میرے رہنے بے حیا باتیں کھلی اور چھیں اور گناہ اور بغاوت ہیں くす