فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 51 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 51

۵۱ و اذن فِي النَّاسِ بِالحَج يَأْتُوكَ رِجَالًا وَ عَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فجر عَمِيقٍ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ سُوره حج - سیپاره ۱۷ - فائدہ - حج میں فوائد کی تحصیل کا خیال رہے۔غور کرو لفظ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ پر۔انسان پیدا ہوا لڑ کی بالٹ کا۔تمام بلاد میں علی العموم اور عرب میں بالخصوص رواج تھا۔لڑکیوں کو مار ڈالتے تھے اور لڑکوں کی نسبت کثرت اولاد کو ناپسند کرتے تھے۔ایک یونانی حکیم کا قول ہے لنگڑے لڑکے قانونا ہارے جاویں۔کثرت اولاد پر استقاط جنین اور مانع حمل ادویہ پوچھنے والے بہت سے لوگ میرے پاس آئے۔انسانی قربانی کا جسے مہندمیں تو لی کہتے ہیں یہود میں عام رواج تھا۔عرب کے ثبت پرست بھی اس بلائے بد میں گرفتار تھے مگر حضور تے ان امراض کا علاج ایسا کیا۔جس کی نظیر نہیں۔اور یہی بات خرق عادت ہے کہ ان امراض کا نام و نشان ملک عرب میں نہ رہا۔دیکھو قرآن ان قبیح رسوم پر کیا فرماتا ہے۔اذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ بِآتِ ذَنْبٍ قُتِلَتْ - سوره تکویر - سیپاره ۳۰ - تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمُوا يا كمان قتلهم - كَانَ خِطأُ كَبِيرًا - سورۂ بنی اسرائیل - سیپاره ۱۵ وَكَذلِكَ زَيَّنَ لِكَثِير مِنَ الْمُشْرِكين مثل أولادهم شركا وهم لِبُرُدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ سُوره انعام - سیپاره -۸ بیتائی کی تربیت اور پرورش اور قیموں کے حفظ اموال و اسباب کی تاکید فرمائی۔لے اور پکارے لوگوں میں حج کے واسطے کہ آئیں تیرے پاس پیدل اور سوار ڈیلے ڈبلے اونٹوں پر چلتے آتے راہوں دور سے۔کہ پہنچیں اپنے بھلے کی جگہوں پر یا ے جب بیٹی جیتی گاڑ دی کو پوچھے کس گناہ پر وہ ماری گئی ہوا کے اور مار ڈالو اپنی اولاد کو ڈر سے علی کے ہم روزی دیتے ہیں انکو در تم کو بیشک ان کا مار نابڑی چوک ہے " ہے اسی طرح بھی دیکھائی ہو بہت مشرکوں کو اولاد مارتی آنکے شریکوں نے کہ انکو ہلاک کریں اور انکا دین غلط کریں۔