فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 50
عبادتیں ان اعمال کے ساتھ نہ ہو تیں۔تو یہ اعمال متروک ہو جاتے۔باہمی اختلافات سے یہ انجمنیں مثل اور دنیوی انجمنوں کے فنا ہو جاتیں۔یا یہ اعمال صرف دنیوی منافع پر محدود رہ جائے۔اب ان اصول خمسہ اسلام کا ثبوت قرآن سے سُن لو۔قرآن کے پہلے سیپارے پہلی سورت کی ابتدا میں ہے۔Ľ ذلك الكتابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِيْنَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَ يُقِيمُونَ الصَّلوة وَمِمَّا رَزَ فَنْهُمْ يُنْفِقُونَ - ابتدای قرآن رَزَقْنا ياأيها الذين امنوا كتب عليكم القِيامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ - سُوره بقر - سیپاره ۲ - اللهِ عَلَى النَّاسِ حِبُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا سُوره ال عمران سیپاره لطیفہ۔حج کے بیان میں دینی اور دنیوی دونوں قسم کے منافع کا بیان ان آیات سے نکلتا ہو۔اول رکوع الْحَجَّ اشْهُرُ مَعْلُومَات میں لکھا ہے۔فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَ مَالَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وقِنَا عَذَابَ النَّارِ - سوره بقر - سیپاره ۲ - ے اس کتاب میں کچھ شک نہیں راہ بتاتی ہے ڈر والوں کو جو یقین کرتے ہیں بن دیکھے (اللہ ) اور درست کرتے ہیں نماز اور ہمارا دیا کچھ خرچ کرتے ہیں۔الغیب ہو اللہ تعالے ۱۳ ابن عباس !! سلک اے ایمان والو حکم ہوا تم پر روزے کا جسے حکم ہوا تھا تم سے اگلوں پر شاید ہم پر ہیز گار ہو جاؤ ہوں ہے اور اللہ کا حق ہے لوگوں پر حج کرنا اس گھر کا جو کوئی پادے اس تک راہ ۱۳ وہ پھر کوئی آدمی کہتا ہے اسے رب ہمارے دے ہم کو دنیا میں اور اس کو آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔اور کوئی ان میں کہتا ہے اے رب ہمارے دے ہم کو دنیا میں خوبی اور آخرت میں نوبی ۱۳ دیکھو خالص دنیوی منافع اسلام میں ناپسند ہیں۔