فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 49
۴۹ یونان اور یورپ اور بقول آریہ سماج وا نایان ہند (توبہ آریہ دیش نے بیان کئے۔بلکہ اور بے انت اسرار بھی ہیں۔اگر طبعی قانون کے اسرار بے انتہا ہیں۔اور صرف اس قدر نہیں جو ابتک حکما نے بیان کئے ہیں تو احکام اسلام کے اسرار بھی ایسے ہی سمجھو۔معلوم نہیں زمانے کی ترقی پر کیاکیا اسرار قانون قدرت اور قانون شریعت میں ظاہر ہونگے۔سلف امت اگر اسرار بیان کرتے۔تو کسقدر اور کیا بیان کرتے۔لطیفہ - اُسوقت جب میں یہ باتیں کر رہا تھا۔یا اسکے قریب۔ایک ہند و یا آریہ آتشک کا مبتلا بغرض علاج میرے پاس آیا۔بیمار کو دیکھا۔اُس کا وہ چھڑا جو مرد کی شرمگاہ پر ہوتا ہے اور ختنے میں کاٹ دیا جاتا ہے۔اندر سے زخمی تھا اور مکن نہ تھا۔پیچھے ہٹ سکے۔ناچار اس بیمار کا ختنہ کیا گیا۔میں نے کہا سبحان اللہ آج ختنے کی ضرورت مشاہدے میں آئی۔اور ایک آرین کو ایک اسلامی مسئلہ بمجبوری ماننا پڑا۔دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے۔(ا) صرف اجتماع قومی ہی مقصود بالذات نہیں ہوتا۔بلکہ اسلامہ کا منشاء ہو کہ ہر ایک فعل میں ہر ایک قول میں ہم کو ہمارا خالق اور رازق مرتی یاد رہے۔کوئی فصل اور قول بدوں شمول نام باری و رضائے ایزدی نہ ہو۔ہر وقت خانی اشیاء سے بقا کی طرف جسم سے روح کی طرف توجہ رہے۔دیکھو پائخانے کو جاتے ہوئے ایک جسمانی نجاست پھینکنے کی جگہ جاتے ہیں۔اسلام سکھاتا ہے۔پاخانے میں جاتے وقت کہو۔لصور اور جب پائخانے سے نکلے۔تو اس واسطے کہ ایک جسمانی دُکھ سے نجات پائی۔اورحیم سے جسمانی نجاست دور ہو گئی۔روحانی نجاستوں کے دُور ہونے کی دعامانگے اور کہے غُفرانك یعنی ہر ایک برائی پر تیری مغفرت مانگتا ہوں۔دوسری بات بجواب اعتراض دوم یہ ہے کہ اگر یہ روحانی محرکات الہی اذکار اور الہی نے اسے اللہ میں تجھ سے پلید یوں اور خبائث سے پناہ مانگتا ہوں"۔روحانی محرکات