فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 46
ایک سفر مسلمان بھائی محلے حملے کے ا م ا و ر و ا ن اور پانچ نمازوں میں باہم مل لیاری یہ بات محلوں کی مسجدوں میں پانچ بار حاصل ہو جاتی ہے۔اور شہر شہر کے اہل اسلام کا باہم لنا برسویں روز حج کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے۔فیضان وقت مساجد کی نظافت کا اہتمام اس بات سے دریافت ہو سکتا ہے۔ابتدائے اسلام میں جب اسلام اپنی اصلی حالت پر تھا۔ہادی اسلام اور اُسکے جانشینان با اکرام تک کے لئے مساجد میں وضو کرنے کا کوئی مکان نہ ہوتا تھا۔نہ مساجد میں طہارت خان اور بجائے ضرور ہوتے تھے۔صاف ظاہر ہوتا ہے۔رطوبات متحفتہ سینڈہ وغیرہ کو مخل صحت اور ایسے موقع اجتماع کا منافی سمجھا۔ہم پچھلے لوگوں کے اطوار اور کردار کے ذمہ دا نہیں۔رسالتمآب کے وقت مساجد میں خوشبو جلائی جاتی تھی۔اور مساجد میں یا اُن کے قریب اجتماع رطوبت کا کوئی مکان نہیں ہوتا تھا۔گھروں میں وضو کر کے سجدوں میں جانا جناب رسول اللہ صلعم سے ثابت ہے اور اسی کی فضیلت بیان کی گئی۔تمام شہر اور اُسکے حوالی میں رہنے والے مسلمانوں کے اجتماع کیلئے جامع مسجد اور جمعے کی نماز تجویز ہوئی اور کثرت اجتماع کے لحاظ سے حکم ہوا مجھے سے پہلے نہا لینا پڑے بدلنا بشرط امکان خوشبو لگانا۔اذان کے وقت جو خطبے (لکچر) کی ابتدا میں ہوتی ہے۔جمعے کو آؤ۔اور ظہر کی نماز سے آدھی دو رکعت کی نماز پڑھکر اپنے اپنے کاموں پر چلے جاؤ۔زیادہ دیر تک کے اجتماع کو جو مخل صحت تھا منع کر دیا۔بعد الجمعہ وعظ کی عادت ابتدائی اس میں نہ تھی۔قصبات اور دیہات اور شہری اہل اسلام کے اجتماع کو سال میں دوبار عید الفطر اور عید الاضحے پر تجویز کیا۔کثرت بھیٹر میں عدم صحت کا اندیشہ اس طرح مٹایا۔نہاؤ کپڑے بدلو۔سخت گرمی سے پہلے ہی شہر سے باہر کھلے میدان میں زن و مرد سب جاکہ جمع ہوا۔وہاں دو رکعت کی نماز ہے اور اسکے بعد ضرورتوں پر خطبہ (لیکچر) ام بلاد اسلام کے مسلمان بھائیوں کے اجتماع کے اسے صدر مقام و جگہ تجویزہوئی مسجد کی نظامت جماعت