فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 444 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 444

ا کے معنی بھی آگے سمجھ لو ) ۳ باب ۲۳- نامہ گلتیاں۔لاکن ایمان کے آنے سے پیشتر ہم شریعیت کے بند میں تھے۔اور اس ایمان تک جو ظاہر مونیوالا تھا۔گھیرے میں ہے۔پس شریعت میں تک پہنچانے کو ہماری استاد ٹھہری تاکہ ہم ایمان سے راستباز گنے جا دیں پر جب ایمان آچکا تو ہم بھڑاستاد کے تحت میں نہیں رہتے۔۲ باب ۲۱ گلتی - راستبازی اگر شرد ب راستبازی اگر شریعت سے ملتی تو مسیح عبث ہوا۔۲ باب ۱۵ نامہ افساں میں نے اپنا ہم دیکے دشمن یعنی شریعیت کے حکموں اور رسموں کو کھو دیا۔۷- باب ۱۸۱۳ نامه عیبرانیاں۔جب کہانت بدلی تو شریعت بھی ضرور بدل گئی۔اور آیت میں شریعت بی فائدہ ہم باب ۱۳ حز قیل میں ہے کہ تو کھاناگرہ سے پکا کر کھائے گا۔پھر جب آئے مزاری کی تو فرمایا۔اچھا گو بر سے پکا کر کھائیں۔اباب دوستی ان بارہ تہوں کو یسوع نے بھی اور انہیں حکم دے کے کہا کہ غیر قوموں کی طرف مت جاؤ۔اور سامریوں کے کسی شہرمیں داخل مست ہو۔بلکہ خصوصا استیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جاؤ آیت میں راستے کے لئے جھولے نہ دو۔کرتے نہ جوتیاں نہ لاٹھی لو۔کیونکہ مزدور اپنی خوراک کے لائق ہے۔میتی ۱۵ باب ۲۴۔اس نے جواب دوسے کے کہا کہ میں اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔لکن ب باشی مرقس میں ہے کہ تمام جہان میں جاؤ اور تمام مخلوق کو انھیں سناؤ اور لوقا باب ۳۶ میں اس بات کی اجازت دیدی۔متی ۲۳ باب امیں ہے جو کچھ فریسی اور فقیہی جو موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں م کوکہیں اور کم کریں وہ یاد کرو اور ہی کام کرو اور بالکل ظاہر ہے کہ وہ توریت پر مسل کر بتلاتے۔انا جیسے گذرا حواریوں اور پولوس نے منسوخ کر دیا۔بلکہ شریعیت پر چلنے والا جہنمی شود گیتی ہ باب ہم۔نہایت عجیب بات یاد رکھنے کے قابل ہے۔یوحنا 14 باب ۲۵ یہ باتیں میں نے تمثیلوں یں کہی ہیں پر وہ وقت آتا ہے میں تمہیں تمیوں میں چھ نہ کہوں گا۔بلکہ باپ کی صاف خبر پھر تمہیں دوں گا۔گوستا 4 باب ۱ میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں پر اب تم تمثیل برداشت نہیں کر سکتے۔دیکھو تبدل وقت سے تبدل احکام کیسے ثابت ہوتا ہے میں کہتے ہیں اب تو کیے تمثیل میں بات کرتی ہوں مگر اور وقت پر صاف کہوں گا۔اور فرماتے ہیں کئی ایک باتیں تم سے کہنا