فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 437 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 437

نیز آخر میں کہا ہے ابرام رفتہ رفتہ دکھن پہنچا۔اور مسیح فرماتے ہیں کہ دکھن کی ملکہ شہر یا کی شہزادی تھی جو سلیمان کے پاس آئی۔اور صاف ظاہر ہے کہ بیت اللہ جسے مکہ کہتے ہیں۔کنعان سے دکھن کی طرف واقع ہے۔علاوہ بریں پیدائش ۱۳ باب ۳ میں ابرام کی نسبت لکھا ہے کہ وہ دکھن کی طرف پھیلا اور سفر کرتا دکھن سے بیت ایل میں پہنچا۔اور تراجم موجودہ میں مبو فقرہ اس کے بعد لکھا ہے وہ توریت کا فقرہ نہیں اور قومی روایات ملکی تو اتر- رسومات کا توافق ابراہیمی عبادات سے فتنے کی رسم قربانی وغیرہ مناسک میں اتحاد تمام اقوام عربک اس بات پر نسلاً بعد نسل اتفاق صاف گواہی دیتا ہے کہ ابراہیم کو ا مسجد سے تعلق ہے جسے بریالیے کہتے ہیں۔پھر کوئی امر قانون قدرت میں اور کوئی ضروری اور بدیسی علم نہیں اس اعتقاد سے پھرنے پر علم مجبور نہیں کر سکتا۔یسعیا۔باب - اونٹنیاں کثرت سے تجھے آکے چھپا لیں گی۔مدیان اور عفیفہ کی جوان اونٹنیاں کیسے سب جو سبا کے ہیں آدیں گے۔۔۔قیدار (پسر اسمعیل) کی ساری بھیڑیں تیرے پاس جمع ہوں گی۔نبیط (پسر امیل) کے مینڈھے تیری خدمت میں حاضر ہوں گے۔وہ میری منظوری کے واسطے میرے منبع پر چڑھائے جاویں گے۔اور میں اپنی شوکت کے گہر کو بندگی دوں گا۔یہ کون ہیں جو بدلی کی طرح اڑتے آتے ہیں۔اور کبوتر کی مانند اپنی کا بنک کی طرف یقیناً سحری مملک تیری راہ تکیں گے۔اور ترکیس کے جہاز پہلے آدیں گے۔-1 اجنبیوں کے بیٹے بھی تیری دیوار اٹھائیں گے۔اور ان کے بادشاہ تیری خدمت گزاری کریں گے۔اگرچہ میں نے اپنے قہر سے تجھے ملا پر اپنی مہربانیوں سے تجھ پر رکھا کروں گا۔اور تیری بھا میں نبیت کھلی رہیں گی۔وسے دن رات کبھی بند نہ ہوں گی۔اہاں وہ سب جنہوں نے تیری تحقیر کی تیرے پاؤں پڑیں گے اور وہ خدا کا شہر اسرائیل کے قدوس کا صیہون (سنگلاخ زمین) تیرا نام رکھیں گے۔اس کے بدلے کہ تو ترک کی گئی۔اور تجھ سے نفرت ہوئی۔اے آخرہ پادری انصاف کریں