فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 416 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 416

آدمی پر وبال آتا ہے۔جب ہر ایک تکلیف کا ستیہ گناہ ٹھہرا۔جب ہر ایک گناہ کا نتیجہ تکلیف نهری تو منصفو۔بیجا تعجب میں ہلاک نہ ہونے والو۔قیامت میں نجات کے امید وار در راستی پسند و سوچو اور اندازه کرده که س تقسیم قرآن حضرت انسان کو گناہ سے کیسی نفرت ضرور ہے اور آدمی کو خدا کی نافرمانی سے بچنا کیسا ابد ہوا۔بھلائی کے لینے میں اور برائی سے بچنے کے لئے مسلمانوں قرآن کے ماننے والوں کو کیسی تاکید ہوئی جب ہر ایک منزل اور مصیبت گناہ کا نتیجہ ہوا۔تو اہل اسلام کو کہاں تک ترقی کرنے اور عصیان اہی سے بچنے کی سعی کرنی چاہیئے۔جن نافہم لوگوں نے کہا ہے کہ گناہ کو مسلمان ایک خفیف حرکت اور وہ بھی خدا کی طرف سے مان کر گناہ میں بیناک ہیں۔وہ سوچیں کہ ان کی بات کچھ بھی راست ہے۔میں ان آیات کا مفصل ذکر کروں گا جنکے معانی نہ سمجھنے سے عربی لغت یا قرآنی مہارت ہے بے بہرہ لوگوں نے یہ غلط خیال کیا ہے کہ قرآن جبر کی تعلیم دیتا ہے اور انسان کو جسے حیوانوں سے صرف دو ہی باتوں میں امتیاز حاصل ہے کہ انسان غیر محدود ترقی کی استعداد رکھتا ہے۔اور حیوانات محدود و عروج کی انسان کسی ترقی دوسرے بنی نوع یا بنی جنس کو سکھا سکتا ہے اور حیوان اس میں عاجز ہے۔لیکن ان آیات کے بیان سے پہلے اس امر کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں کہ شیطان کو مذنب اسلام میں ایسا اختیار حاصل نہیں کہ وہ آدمیوں کو خواہ مخواہ گاہ کردے یا گناہ کرنے پرمجبور کر دے۔شیطان چاہو اُسے موجود خارج عن الانسان مانو چاہو اسے انسانی قوت چاہے کسی بڑے شریر کو کہو۔چاہے ان شریہ امر کو کہ جن کی خوشامد اور ڈر سے آدمی کسی وقت معاصی کا نجیب ہوتا ہے۔غرض شیطان کو یہ اختیار نہیں کہ انسان کی اُس استطاعت اور قدرت کو جسکے باعث انسان نیک وبد کا فاعل اور عامل اور کا سب کہا کیا سلب کر دے۔ے اہل اسلام میں طرح اس قوت امارہ اس کی بین جنبین یاخون کے مانند انسان کے رگ دلنے میں چلنے والیا تو سہی کی تری تحدید کرتے ہیں ہرگز عقل کے نزدیک محل اعتراض نہیں بلا خیلی شیطان کا سودا کے مقابل باقی صفیہ اہم پر)