فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 402 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 402

نابت ہو حقیقی محرک رحم ہے۔اس کے لئے مہیا کر دی۔اگر اس نے خلوص قلب سے سچی توبہ کی اور بڑی تفریح سے اپنے معالق کی طرف رجوع کی تو فصل اُسکے سارے گناہوں کے دفتر کو دھوڈالتا ہے۔اس لئے اور اسی لئے ہم کہتے ہیں اور مشاہرے۔کہتے ہیں کہ فضل کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے کبھی بند نہیں ہوا۔مگر جس طرح روشنی اور اسکے انوار فی حد ذاتہ روشنی بخش ہیں۔الا اگر کوئی تاریک جھونپڑے میں گھتا ہوا ہو۔اور اسے روشنی نہ پہنچے۔تو اسے یہ لازم نہیں آ کہ روشنی نور بخش نہیں ہے۔نہیں وہ فی ذاتہ نور ہے۔اور اسی لئے نور بخشش ہے۔مگر اُسے حاصل کرنا چاہیئے۔اور روشنی لینے اور اُسکے انوار کا مظہر بنے کیلئے جمیع سامان کی ضرورت پڑتی ہے۔مثلاً اندھیری کوٹھڑی سے باہر اور اسکے خطوط شعاعی کے محیط میں موجود ہونا۔ایسا ہی آخرت کے نور اور اُس کے سامان کے حصول کے لئے یہاں فضل اور نجات کے سامان کی ضرورت ہے۔اور وہ سامان جاذب فضل اور مقناطیس رحم سچا ایمان ہو۔جسے قرآن بیان کرتا ہے۔الله ولى الذين امنوا يخرجُهُم مِنَ الظُّلمت إلى النور والذين كفروا أوليا و هم اللغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمتِ - سیپاره ۳ سوره بقى ربوع ٣٣ - پس جو شخص ولایت الہیہ کو اختیار کرے اور سچا ایمان باریتعالی کے ساتھ رکھو۔یقیناً فضل اُس کا دستگیر ہوگا۔پر جس طرح درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہو اور بیج کی خوبی اپنے ثمر سے ظاہر ہوتی ہے۔اسی طرح جسکے اندر سچا ایمان ہو گیا۔اور جس کے حل میں ایمان کے پاک بار آور درخت نے جڑ پکڑی ہوگی۔لا محالہ اُسکے پھل یعنی ن اللہ کام بنانے والا ہے یمان والوں کا۔نکالتا ہے اُن کو اندھیروں سے اُجالوں میں۔اور جو منکر ہیں۔اُنکے رفیق میں شیطان نکالتے ہیں اُن کو اُجالے سے اندھیروں میں ۱۲