فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 397 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 397

خدا اکیلا سچا خدا ہی اور یسوع مسیح جسے اُس نے رسول کر کے بھیجا واعظ نجات اور ست چار سول ہو اور آخر میں ہزاروں صلوات و سلام اس مبارک فخر امر سلین ہادی کو جسی آخری زمانے میں کل نبیوں کی اصلی اور واقعی تعلیم کو پھر دنیا میں پھیلایا۔اور مسیح کی خالص اور پانی تعلیم کو تمام کفر و شرک کے شائیوں اور انکی خلاف منشا آمیزشوں سے مبرا کر کے ہزاروں لاکھوں مخلوق کو اباری نجات کی راہ بتائی اور بڑی صفائی سے فرمایا۔14 قولُوا آمَنا الشو وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا انْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ - سياره سوره بقى ركوع قل ياهل الكتب تَعَالَوْا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم تم الا نعبد إلا الله وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَا بَا مِّن دُونِ اللهِ سیپاره ۳ - سورة ال عمران - رکوع -- عدل و رحم یہ دو لفظ اکثر نصاری کی گفتگو کا سرمایہ ہیں۔ہم حیران ہیں کہ ان الفاظ کا مفہوم ان لوگوں نے کیا سمجھا ہو۔کیا عدل یوں ہی قائم ہوتا ہے کہ خدائے قدوس ایک عورت کے پیٹ میں کسی طرح گھس کے اور پھر اس میں سر نکل کے مصلوب و ملعون ہو۔تب لوگ نجات پائیں۔لا اله الا الله لا حول ولا قوة إلا باللهِ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُوارْتَ إِلَّا گرن با سیپاره ۱۵- سوره کهف - رکوع ۱ - اس موقعہ پر مجھے ایک دلچسپ واقعہ یاد آگیا جس کا بیان کرنا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔ایک پادری صاحب رحم و عدل کی منادی کر رہے تھے۔وہاں ایک سلیم الفطرت زمیندار آنکلا۔اُس نے پادری صاحب سے عرض کیا۔میں نہایت غریب آدمی ہوں۔اتنا اثاثہ بھی نہیں، ے کہو ہم نے یقین کیا اللہ پر اور جو اترا ہم پر اورجو اترا ابراہیم پر ۱۲ ہ تم کہو اے کتاب والو آؤ ایک سیدھی بات پر ہمارے تمہارے درمیان کی کہ بندگی نہ کہیں ہم مگراند کو اور شریک نہ ٹھہرا دیں اس کا کسی چیز کو۔اور نہ پکڑیں آپس میں ایک ایک کو رب سوائے اللہ کے ۱۲ کیا بڑی بات ہو کر نکلتی ہے اُن کے منہ سے سب جھوٹ ہے جو کہتے ہیں ۱۲