فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 381
۳۸۱ میں اپنے پاک نبیوں کو کشائیش کی راہ دکھاتی ہے۔اصلی قدیمی ابراہیم اسمعیل کے بہیت اللہ کی طرف نماز میں توجہ کی۔اس سے خالص انصار اور غدار یہودیوں میں امتیاز کی راہ نکل آئی۔قرآن بھی اسی مطلب کا اشارہ کرتا ہے۔وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ سیپاره ۲ - سوره بقر - رکوع ۱۷ - اس بات کو بھولنا نہیں چاہیئے۔کہ ایسی جدید قومہ کو جس کے استیصال کے در پے مختلف قومیں ہو رہی تھیں۔ایسے نئے مذہب کو جسے اولا مخلصین و منافقین میں تمیز کرنا اور دشمنوں کے جابرانہ حملوں کا اندفاع اختیار کہ نا تھا۔نہایت ضرور تھا اور عقلا نفق لا اس سے بہتر نہیں ہو سکتا تھا۔کہ ایسی ہی تدبیر سے کام لے- پس گو ابتداء میں سمت قبلہ کسی مصلحت کے لئے معین کی گئی ہو۔اور عادۃ اللہ نے اُس میں کوئی راز مرکوز رکھتا ہو۔مگر انتہا میں بھی یادگار کے طور پر اور اس امر کے نشان اور یاد آوری کے لئے کہ یہ کامل مذہب یہ توحید کا آفتاب اُسی پاک زمین سے نمودار ہوا۔وہ خدا وندی حکمت بحال رکھی گئی۔ورنہ اہل اسلام کا عقیدہ تو یہ ہو کہ خدائے تعالی کی ذات مکان اور بہت کی قید سے منزہ ہے۔اور عنصری و کونی صفات سے اعلیٰ اور مہترا ہے۔کوئی بہت نہیں جس میں وہ مقید ہو۔کوئی خاص مکان نہیں جس میں مخصوصا وہ رہتا ہو۔اسی مطلب کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے۔اور معترضین کے اعتراض کو اپنے علم بسینہ سے پہلے ہی رد کر دیا ہے۔وبله المشرق والمغرب وأينما تُولَّوْا فَتَقَ وَجْهُ الله سیپاره - سوره بقي ركوع فَأَيْنَمَا پھر اور زیادہ مقصود حقیقی کی راہ بتاتا اور فرماتا ہے۔ہے اور وہ قدم جو ہم نے شہر اور ہیرو تھا نہیں مگراسی واسطے کہ علوم کریں کون تابع ہر سال و در کو پھر جاونگا الٹے پانی اور اللہ کی ہے مشرق اور مغرب سو جس طرف تم منہ کرو دونوں ہی متوجہ رہے اللہ ۱۲ -