فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 378
قرب و جوار کے لوگوں کا ہر رونہ پانچ مرتبہ ایک ہنسہ میں جمع ہونا ، اور پھر شانے سے شانہ جوڑ اور پاؤں سے پاؤں ملاکر ایک ہی سچے معبود کے حضور میں کھڑا ہو نا قومی اتفاق کی کیسی بڑی تدبیر ہے۔ساتویں دن جمعہ کو آس پاس کے چھوٹے قریوں اور نہ نتیوں کے لوگ صاف و منظف ہو کر ایک بڑی جامع مسجد میں اکٹھے ہوں۔اور ایک عالم ملیغ تقریبہ (خطبه ) حمد و نعت کے بعد ضروریات قوم پر کرے۔عیدین میں کسی قدر دور کے شہروں کے لوگ ایک فراخ میدان میں جمع ہو اور اپنے ہادی کی شوکت مجسم کثیر جماعت بنگر دنیا کو آفتاب اسلام کی سمک دکھا رہیں۔اور بالآخر اس پاک سر زمین میں اُس فاران میں جہاں سے اولا نور توحید چمکا۔کل اقطار عالم کے خدا دوست حاضر ہادی سیاری بچھڑی ہوئی متفرق امتیں اسی دنگل میں اکٹھی ہوں۔وہاں نہ اُس مٹی اور پتھر کے گھر کی بلکہ اس رب الارباب معبود الکل کی جنسی اُس ارض مقدسہ سے توحید کا عظیم الشان واعظ بے نظیر ہادی نکالا۔حمد وستائش کریں۔اسی طرح ہر سال اس یادگار ربیت اللہ کو دیکھ کر ایک نیا جوش اور تازہ ایمان دل میں پیدا کریں۔جو بحسب تقاضائے فطرت ایسی یادگار وں اور نشانوں سے پیدا ہونا ممکن ہے۔سخت جہالت ہو۔اگر کوئی اہل اسلام کیسی موحد قوم کو مخلوق پرست کا الزام نگاه ایسے شخص کو انسانی طبیعت کے عام میلان اور جذبات کو مدنظر رکھکر ایک واجب القدر اهر پر غور کرنا چاہیئے۔کہ اگر قرآن کے پورے اور خالص معتقدین کے طبائع میں بت پرستی ہوتی نکتہ تو ان کو اپنے ہادی منجی مد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مقدسہ سے بڑھ کر کونسا مجمع تھا۔اللہ تعالیٰ نے مکہ معظمہ میں آنحضرت کا مرقد مبارک نہیں ہونے دیا۔تاکہ توحیہ انہی کا سر چشمہ پاک ہر قسم کے شائیوں اور ممکن خیالات کے گرد و غبار سے پاک صاف رہے اور مخلوق کی فوق العادة تعظیمہ کا استعمال بھی اٹھ جائے۔مسلمانوں کے ہادی علیہ الصلوۃ والسلام کی آخری دُعا :- ب