فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 372
۳۷۲ یکی بڑی خبرأت اور قومی ایمان سے کہتا ہوں۔کہ اسکی مثال یا اس سے بڑھکر مقبول و مطبوع صورت نہ تو کسی مذہب میں رائج ہے۔اور نہ اور نئی معقل میں آسکتی ہے۔یہ جامع مانع طریق آن تمام عمدہ اصولوں اور مسلمہ خوبیوں کو حاوی ہے۔جو دنیا کے اور مذاہب میں فردا فردا موجود ہیں۔اور تمام اُن نیاز مندی کے آداب کو شامل ہے جو ذو الجلال معبود کے عرش اعظم کے سامنے قوائے انسانی میں پیدا ہونے ممکن ہیں۔وہ خاص او را و و کلمات جو اس مجموعی ترکیب کے اجزا - قومہ - رکوع - قعدہ سجود - جلسے وغیرہ میں زبان سے نہیں دل سے نکالے بہاتے ہیں۔اسکی بے نظیری کے کافی ثبوت ہیں۔انصاف سے سوچئے کہ یہ ہیات قوائے قلبی پر کسندر قومی اثر کرنے والی ہے تعیین ارکان سے کون قوم انکار کر سکتی ہے۔دعا میں سرنگا کرنا سیدھا کھڑا ہونا۔آنکھیں بند کرنا آخر میں برکت دیتے وقت ایک ہاتھ لمبا کرنا۔اور ذرا انگلیوں کو نیچے کی طرف مجھکانا۔اور کبھی کبھی خاص حالت میں گھٹنے ٹیکنا یا گھٹنے پر کہنی لگا کر اسپر سر رکھ دینا۔یہ سب امور بتقاوت نصاری میں معمول ہیں۔کوئی اُنہیں کہے ان ظاہری رسوم سے کیا نکلتا ہے۔عبادت دل سے تعلق رکھتی ہے۔اُس پر اکتفا کرنا چاہیئے۔صاف بات کا وہ کیا جواب دینگے۔پس اسلامی صورت سے کیوں پڑتے ہیں۔مجھے امید ہے کہ نصاری نفس وجود ارکان سے تو کچھ تعرض نہ کرینگے۔کیونکہ اس طبیعی حالت میں وہ اضطراراً اہل اسلام کے ساتھ شریک کر دئے گئے ہیں۔بایں معنی کہ وہ کبھی ایا نماز میں کسی کسی صورت و کین کا ہوتا تو وہ تسلیم کرتے ہیں۔اگر زبان سے اور مذہبی مباحث کے وقت نہیں ملا تو ثابت کر رہے ہیں۔پس اب اصل وجود ارکان پر زیادہ قلم فرسائی کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ہاں شاید مقابلہ بین الصور تین منظور ہوتو خدا پرست کی تعصب کی اعانت سے غور کریں کہ اسلامی طریق میں کیسا جلال ، کمال تمکین اور وقار پایا جاتا ہے۔اس بے رنگ بیچوں ، احمد احمد لم یلد لم یولدہ کے حضور اقدس میں ہے رنگ بے تصویر