فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 367
ام عليكم اوریہ کہ تمام اختیارات کے مواد اور مقدورات کے اسباب اس کی قدرت سے باہر ہیں۔مثلاً حجب دیکھتا ہے کہ بڑے بڑے قوائے طبعی سورج چاند ستارے ہوا بادل وغیرہ میرے ہے مرد خدمتگار ہیں۔بلکہ جب وہ اپنے اسباب قریبہ یعنی جسم ہی کو دیکھتا ہو کہ کیسے مناسب آلات اور موافق ادوات اُس کو ملے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی مفقود ہو جائے اور اور تو جبیر کس کیلئے اس کا یا اسکے مثل بی نقص جزو کا موجودہ کرنا اسکے اسکان سے خارج ہو۔پس یہ تصورات انسان کے دل میں ضرور سخت جوش اور عجیب جاذبات پیدا کرتے ہیں۔اور ولی نیاز بڑی شکر گذار اسکے ساتھ ملکر اسکو ان منی انیم و حسن کی ستائش، وحمد کی طرف مائل کرتا ہے۔اور جس قدر زیادہ اس کو اپنی احتیاج و افتقار کا علم اور فوق القدرات سامانوں کے بآسانی بہم پہنچ جانے کا یقین ہوتا ہے۔اتنا ہی زیادہ اس کا دل اس منعم کے احسانات کی شکر گزاری سے بھر جاتا ہے۔یہی ولی نیاز اور قلبی شکر گزاری ہو سچی محیمت باطنی اخلاص سے ناشی ہوتی ہے۔اور یہی جوش و خروش جو انسان کے دل میں ہوتا ہے۔واقعی اور اصلی نماز ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ ہمارے ظاہری اقوال و افعال حرکات و سکنات کا اثر ہمارے قلب پر پڑتا ہے۔یا یوں کہو کہ جو کچھ ہمارے باطن میں مرکوز ہے حرکات ظاہری ہی اسکی آئینہ دار ہیں۔بہت صاف بات ہو۔کہ اچھا بیج اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔مشاہدہ گواہ ہے کہ جس وقت ہم کسی پیچھے دوست یا کسی بڑے محسن کو دیکھتے ہیں۔جسکی مہربانیاں اور عطایات ہمارے شامل حال ہیں۔تو بے اختیار بشاشت اور طلاقت کے آثار ہمارے چہرے پر آشکار ہوتے ہیں۔اور اگر کسی مخالف طبیع طرف شکل کو دیکھ پا میں تم فی الفور کشیدگی اور انزجار کا نشان پیشانی پر نمودار ہو جاتا ہے۔عرض اس سمو انکار کرنے کی وجہ نہیں ہو سکتی۔کہ تمام واردات اور عوارض مثلاً انبساط - انقباض - یاس - رنجمان فرحت - تخم۔محبت اور عداوت اعضائے ظاہری کو باطنی سمیت یکسان متغیر و متاثر باطن کو ظا ہر سے تعلق ہے۔