فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 352 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 352

پڑتی ہے۔دیکھو یوحنا کے ۱۲ باب ۷ ہم میں سبیح فرماتے ہیں۔جو کوئی مجھپر ایمان نہ لاوے۔میں اسپر حکم نہیں کرتا۔معلوم ہوا حضرت سے بیس میں حکم کا اختیار نہیں رکھتے۔اور مرقس ۱۶ باب ۱۷ میں فرماتے ہیں۔جو کوئی ایمان نہیں لاتا اسپر سزا کا حکم کیا جا ویگا۔معلوم ہوا۔کہ مسیح کے بعد زمانہ میں مسیح کے منکروں پر حکم ہو گیا۔اس واسطے ضرور ہوا۔کہ قرآن اور صاحب قرآن آوے اور حضرت سیج کے سچا نسیم ہونے کی گواہی دیگر اختلاف کو مٹادے اور منکر کو ملزم کرے پھر حضرت سی جیسے ریم و کریم سکین و خاکسار آدمی کی نسبت غلو شروع ہو گیا۔اس مقدس این انسان کی الوہیت کا بے وجہ دعویٰ کیا گیا۔بلکہ کیتھولک فرقے نے بقول میشیم اور مالیم حضرت بی کی والدہ مریم صدیقہ کو امیت تثلیت کا مستم یقین کیا۔کالر حرین حضرت مریم کی تصویر کو گوٹے کناری کے کپڑے پہنانے لگے اور شیر مال کی روٹی اُن پر نذر پر پانی شروع کر دی۔منیس کی مجلس میں خدا باپ کے علاوہ اور دو خدا یکی مجلس میں: مسیح و مرکہ مانے گئے۔فطرت انسانیہ اور نور ایمان ایسے لغو مسائل پر انکار کرنیکے لئے مضبوط کر باندھتے ہیں مگر اس تو تم کا لشکر اپنے سر پر ٹوٹ پڑتا ہو کہ دیکھ تجھے قانون قدرت کا مسلم پورا نہیں۔خدائی اصرار پر پہنچنے کے لئے تیری رسائی نہیں۔الہا نے ان مسائل پر اعتقاد کر، اسواسطے الہانا فطرت سلیم اور عقل مستقیم بیچے صاحب الہام کے فیصلے لینے کو ضرور متوجہ ہوتی ہے۔الہام نبوت کے خاتم نے زور سے فرما دیا مسیح کی الوہیت الہامی نہیں۔یہ اعتقاد ثبت پرستی اور کفر کی بڑ ہے۔ی عقاید کی بیکینی اس وقت تک شروع نہ ہوئی جب تک عرب کے میدان سے سیجی سر یہ نش عیسائیوں پر نہ ہوئی۔هم ورهبان ٹھہرائے ہیں اپنے عالم اور درویشوں کو خدا اللہ کو چھوڑ کر ۱۲ بسیار یہ