فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 342 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 342

۳۴۳ کو خوب جانتے تھے۔گو اب بے ایمانی اور بز دیلی نے انہیں قائم نہ رہنے دیا۔نکتہ - لفظ وعدہ نا جو مسلمانوں کے منہ سے نکلا صاف بتلاتا ہو کہ وہ شروع ہی سے اپنی کامیابی پر وثوق کلی رکھتے تھے۔کیونکہ وعدہ کے معنی ہیں کسی کو اسکے مفید مطلب وعدہ دینا بخلاف ابعاد کے کہ اسکے معنے دھمکی دینا اور ڈرانا ہے۔آب ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ اس وعدے کا ذکر خود قرآن کی ایسی سورت میں موجود ہے جو سکتے میں اُتری ہے وہ آیت یہ ہے۔جند ما هُنَالِكَ مَهُرُوم مِّنَ الأَحْرَاب سياره --- سُورهُ من ركوع الم يَقُولُونَ من جميع منتصر سيهزم الجمع ويولون الدبر - سیپاره ۲۰ الله سورة قمر - رکوع ۲ - و د ورور چھٹی پیشین گوئی جب آنحضرت اور اُنکے اصحاب قلت تعداد اور بے سروسامانی کے باعث کھتے ہو نکالے گئے۔تو اُن سے اور ان کے ہادی سے قرآن نے پیشگوئی کے طور پر فرمایا۔فَمَقِلِ الْكَافِرِينَ أمهلهور ويدا- سیپاره ٣٠- سوره طارق - ركوع اور اپنے آپکو چک مینی کے مشیل کہا تھا اسلئے آپنے دل بھر کے موسی کی اتباع کا حال سنایا۔داور ثنا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يَسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَها۔w سیپاره ۹ - سوره اعراف - مرکوع ۱۶ - ے احزاب (جماعتیں) احزاب کے بڑے بڑے لشکر اُس جگہ شکست کھا جائیں گے ملن کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم بدلہ لینے والی جماعتیں ہیں۔عنقریب یہ سب لوگ شکست دیئے جائیں گے اور بھاگ نکلیں گئے ۱۲ - ہ ان کافروں کو کچھ مدت فرصت وے ۱۲- ک اور ہم نے انھیں لوگوں کو جنہیں وہ ضعیف سمجھتے تھے نه مین (نگہ) کی مشرقوں اور مغربوں کا وارث بنا یا۔