فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 337 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 337

٣٣ وما كان هذا القران أن تُفتَرى مِن دُونِ اللَّهِ وَالمَن تَصْرِينَ الذى بين يديه - سیپاره ۱۱ - سوره یونس - رکوع ۲ - قَدْ جَاءَ كُمُ مِنَ اللهِ نُورُ وَكِتاب بين سيارة و شوره مانده رکوع ۳ و اب یہاں پر ایک اور بات بھی قابل بیان کے ہے کہ عیسائی علما نے عدیم فہمی قرآن سے تصدیق و مصدق کو جو قرآن میں جا بجا آیا ہے۔کچھ اور ہی سمجھ کر خامہ فرسائی کی ہے۔اصل مطلب یہ ہو کہ موسی نے پیشینگوئی کی کہ میرے مثل ایک نبی پیدا ہو گا۔اور خدا کا کلام اُس کے منہ میں ڈالا جائیگا۔اور یہ خبرا اپنے وقوع کی محتاج تھی۔اور ضرور شینگوئی نے تھا کہ موسکی پیش نگوئی پوری ہو۔میں آنحضرت کے وجود مبارک اور قرآن کریم نے اس کو پورا کر دیا۔اب موسی کی پیشنگوئی کی تصدیق ہوگئی پیس تعریق و مصدق کے لفظ کے ہی معنی ہیں۔اب اگر قرآن کو سچا نہ مانیں اور آنحضرت کو حضرت موسی کا مثیل ہونا تسلیم ندکریں۔با اینکہ آپنے یہ دعوئی بڑے زور سے کیا اور خدا نے انہیں کامیاب کیا تو کتب مقدسہ کی اقدم و اعظم کتاب توریت کی تکذیب لازم آتی نہج۔آگے اعتبار ہے۔لا يَقُولُونَ تَقَوَلَهُ ، بَللاً ت فَلْيَاتُوا بِحَدِيث مِثْلِم أن یہی كانوا صدقين، سیپاره ۲۷ - سوره طوبی - رکوع -۲ باری تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ اگر اس کتاب کو تم لوگ مصنو بھی جانتے ہو۔تو اس کے تم مثل کوئی کتاب لاؤ۔اور فرمایا۔سے یہ قرآن اللہ کے سوا اور کا بنایا ہوا نہیں لیکن تصدیق ہے، اس کتاب کی جو اسکے آگے ہے " سے بیشک تمہارے پاس (اہل کتاب اللہ کی جانب سے نور اور روشن کتاب آئی ہوا مان گا کیا وہ کہتے ہیں اس کو ایسے ہوں گھڑ لیا ہے۔نہیں بلکہ وہ ایمان نہیں لائے۔پھر اس کے مانند کوئی حدیث لاویں اگر وہ سچے ہیں یا