فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 336
۳۳۶ اس حقیقی نبوت سے اعراض کر کے اپنے اسلاف کے مانند برابر عداوت کا بیڑا اٹھائے چلے آتے ہیں۔تو ہمارا تعجب بالکل کم ہو جاتا ہے۔خدا جانے یہ لوگ کب تک اُس مثیل موسیٰ کی اطاعت سے منحرف رہ کر اُس زمانے کے وحشی بدوؤں کی طرح اور زیادہ نشانوں اور آسمانی علامتوں کے خواستگار رہیں گے۔۔اگر یہ لوگ دنیا پرستی اور حب نفس کو چھوڑ کر غور کریں تو آشکارا ہو جاو گی کہ بشارت مثلیت کا دعوی علمی ہی نہیں رہا۔بلکہ عمل بھی پایہ ثبوت کو پہنچ گیا۔سجاح بنت الحارث بن سوید عقیمہ نے پہلے سنہ خلافت میں پیغمبری کا دعویٰ کیا اور بنی تمیم اور تغلب کے قبیلے کے لوگ اُس کے تابع ہو گئے۔اور انھیں دنوں میں مسیلمہ کذاب نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا۔اور یہ انہیں دنوں خدائی وعید کے موافق قتل ہوئے اور ایسے ہی اور لوگوں نے بھی مثل عکسی وغیرہ کے گردن دعوئی بلند کی۔مگر بہت جلد اُن سے اُن کا حساب لیا گیا۔افسوس اس غفلت بخش عداوت نے عیسائیوں کو اتنا بھی سمجھنے نہ دیا کہ اس رسول کی تکذیب اور قرآن کی تکذیب میں توریت کی تکذیب لازم آتی ہے اور قرآن ک تصدیق میں توریت کی تصدیق متضمن ہے۔کیونکہ رب الافواج توریت میں قرآن کی نسبت بشارت دے چکا ہے کہ میں اپنا کلام اسکے منہ میں دونگا) کلام اس کے منہ میں۔کیا ٹھیک ترجمہ وحی کا ہے۔یعنی ایسا کلام جو لفظی و معنا خدا کی طرف سے ہو۔اور یہ صفت صرف قرآن کریم اور فرقان حمید کی ہے۔قرآن بھی کس محبت بھرے الفاظ سے جو خالق کو اپنی مخلوق سے ہے۔اہل کتاب کو آگاہ و بیدار فرماتا ہے کہ توریت میرے اس رسول کی بشارت دیتی ہے۔میرا وجود اس کا مصدق ہے۔اب میری اطاعت کرو۔اور میری مکمل تعلیم کا سبق پڑھو۔ایسا نہ ہو کہ میری تکذیب میں توریت کے کاذب ہو جاؤ۔سنو کتاب حق کیا بولتی ہے۔